صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 532
صحیح البخاری جلده ۵۳۲ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے : وَإِنْ جَنَحُوا لِلسّلْمِ فَاجْنَحُ لَهَا وَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ، وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللهُ " (الأنفال: ۶۳۶۲) (اگر تمہاری تیاریوں کو دیکھ کر ) کا فر صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہوا اور اللہ پر توکل کرو۔ اللہ یقیناً بہت دعائیں سننے والا اور بہت جاننے والا ہے اور اگر وہ اس بات کا ارادہ رکھتے ہوں کہ بعد میں تجھے دھوکا دیں تو یاد رکھو کہ اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔ امام موصوف نے جَنَحُوا کی تشریح طَلَبُوا السَّلمَ سے کر کے ان فقہاء کے مذہب کی طرف اشارہ کیا ہے جنہوں نے مسلمانوں کی طرف سے مصالحت کے مطالبہ کو کمزوری پر محمول کر کے اس کی اجازت دی ہے۔ واقعہ مذکورہ بالا میں صورت حال کے تقاضا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے مصالحت مناسب سمجھی ۔ یہودیوں کی طرف سے کسی مطالبے کا ذکر نہیں۔ واقعہ حدیبیہ میں تو مطالبہ صلح کمزوری کی بناء پر محمول کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس واقعہ میں تو کمزوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صلح حدیبیہ بھی کمزوری کی وجہ سے نہ ہوئی تھی۔ کیونکہ اس سے قبل کفار قریش دو جنگوں اور کئی جھڑپوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لوہا آزما چکے تھے اور انہیں اچھی طرح علم تھا کہ اگر مقابلہ ہوا تو مسلمان میدان نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ اس امر کی طرف اگلے باب میں اشارہ کیا گیا ہے۔ مندرجہ بالا روایت میں ذکر ہے کہ محیصہ بن مسعود زید کے پوتے تھے۔ بعض کے نزدیک مسعود بن زید نہیں بلکہ مسعود بن کعب ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۳۲) باب ۱۳ : فَضْلُ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ ایفائے عہد کی فضیلت ٣١٧٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۳۱۷۴ : چی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ نے اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ سے ، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عقبہ سے أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ روایت کی کہ ( انہوں نے ان کو خبر دی۔ ) حضرت أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ عبد الله بن عباس نے انہیں بتایا کہ ابوسفیان بن حرب أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبِ مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا نے ان کو بتایا کہ ہر قل نے انہیں قافلہ قریش سمیت بلا تِجَارًا بِالشَّأْمِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي مَادَّ بھیجا۔ وہ شام میں تجارت کے لئے گئے ہوئے تھے۔ فِيْهَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے أَبَا سُفْيَانَ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ۔ ابوسفیان سے کفار قریش کے متعلق میعادی صلح کی تھی۔ اطرافه: ٧، ٥١، ٢٦٨١، ۲۸۰٤، ۲۹۷۱، ۲۹۷۸، ٤٥٥٣ ، ٥٩٨٠ ، ٦٢٦٠، ٧١٩٦، ٧٥٤١۔