صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 519
صحيح البخاری جلده ۵۱۹ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة الله تشريح : مَا أَقْطَعَ النَّبِيُّ ﷺ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ۔۔۔ : عنوان باب میں تین مسائل بیان ہوئے ہیں اور ان سے متعلق تین روایتیں علی الترتیب درج ہیں۔ بحرین سے اسے آمدہ مال کی آمد و تقسیم حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں ہوئی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جملہ شرطیہ لَوْ قَدْ جَاءَ نا کہہ کر اپنے ارادہ کا اظہار فرمایا تھا۔ امام بخاری نے اس سے اموال کے وجزیہ کی تقسیم کا حکم مستنبط کیا ہے کیونکہ اگر اراضیات نے کی تقسیم درست نہ ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے نہ فرماتے کہ میں تمہیں بحرین میں معاش کی سندیں لکھ دیتا ہوں ۔ عنوان باب میں اموال فے اور اموال جزیہ تقسیم کی رو سے ایک ہی شق میں شمار کئے گئے ہیں کہ وہ امام کی رائے کے مطابق تقسیم کئے جائیں گے۔ اسی غرض سے یہ باب قائم کر کے اموال جزیہ وفے ایک دوسرے پر عطف کئے گئے ہیں۔ ابو عبید نے فے ، خراج ، جزیہ اور عشر کو جو ذمیوں سے وصول ہو بیت المال کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سب مسلمانوں کا ان اموال میں حق ہے ۔ صحابہ صحابہ کرام میں نے کی تقسیم سے متعلق اختلاف اختلاف تھا۔ حضرت ت ابو ابوبا بکر نے اسے برا بر تقسیم کرنے کا فتویٰ دیا ہے۔ حضرت علی ، عطاء بن ابی رباح اور امام شافعی کا بھی یہی فتوٹی ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کی رائے میں تقاضائے حالات کی بناء پر اموال کے کم و بیش تقسیم کئے جاسکتے ہیں ۔ مساوات مد نظر رکھنا ضروری نہیں ۔ امام مالک کی بھی یہی رائے ہے۔ احناف کے نزدیک امام وقت مجاز و مختار ہے۔ جیسا مناسب سمجھے تقسیم کرے۔ برابر یا کم و بیش ۔ عامتہ المسلمین کی مصلحت ، رفاہ عامہ اور نا گہانی ضرورتوں کے لئے یہ اموال ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۳۲۴۰۳۲۳) بَابه : إِثْمُ مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا بِغَيْرِ جُرْمٍ اس شخص کا گناہ جس نے بغیر جرم کے ایسے آدمی کو قتل کیا جس سے معاہدہ ہو ٣١٦٦: حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصِ ۳۱۶۶: قیس بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عبد الواحد نے ہمیں بتایا۔ حسن بن عمرو نے ہم سے بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بیان کیا کہ مجاہد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ عبد الله بن عمرو (بن عاص) رضی اللہ عنہما سے، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ حضرت عبداللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت مُعَاهِدًا لَمْ يَرِحُ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ کی کہ آپ نے فرمایا: جس نے ایسے آدمی کو قتل کیا نے جنت کی خوشبو نہ سونگھی رِيحَهَا تُوْجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ جس سے معاہدہ ہو، اس نے جنت عامًا۔ طرفه: ٦٩١٤۔ بحالیکہ جنت کی خوشبو تو ایسی ہے کہ چالیس برس کی مسافت پر بھی محسوس ہوتی ہے۔