صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 518
صحيح البخاری جلده ۵۱۸ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین کا مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَقَالَ انْفُرُوْهُ فِي ماليہ لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اس کو مسجد میں رکھ دو۔ الْمَسْجِدِ فَكَانَ أَكْثَرَ مَالٍ أُتِيَ بِهِ یہ سب سے زیادہ مال تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ کے پاس لایا گیا۔ اتنے میں حضرت عباس آپ کے جَاءَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! مجھے بھی دیں۔ میں نے اپنا فدیہ دیا اور عقیل کا بھی۔ آپ نے فرمایا: أَعْطِنِي فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ لے لیں۔ تو وہ اپنے کپڑے میں لپ بھر کر ڈالنے اور عَقِيلًا فَقَالَ خُذْ فَحَنَا فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ اے اُٹھانے لگے تو اسے نہ اُٹھا سکے۔ انہوں نے کہا: ذَهَبَ يُقِلُّهُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَالَ أَمُرْ کسی سے فرمائیں کہ وہ مجھے اُٹھوا دے۔ آپ نے بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ إِلَيَّ قَالَ لَا قَالَ فَارْفَعْهُ فرمایا: یہ نہیں ہوگا۔ حضرت عباس نے کہا: پھر آپ ہی أَنْتَ عَلَيَّ قَالَ لَا فَنَثَرَ مِنْهُ ثُمَّ ذَهَبَ اسے اُٹھا کر مجھ پہ رکھ دیں۔ فرمایا: نہیں۔ تو انہوں يُقِلُّهُ فَلَمْ يَرْفَعْهُ فَقَالَ فَمُرْ بَعْضَهُمْ نے اس میں سے کچھ نکال ڈالے اور پھر اس کو اُٹھانے يَرْفَعْهُ عَلَيَّ قَالَ لَا قَالَ فَارْفَعْهُ أَنْتَ لگے مگر پھر بھی نہ اُٹھا سکے۔ حضرت عباس نے کہا: عَلَيَّ قَالَ لَا فَنَثَرَ مِنْهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ عَلَی آپ کسی سے فرمائیں کہ اس کو اٹھا کر مجھ پر رکھ دے۔ كَاهِلِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ فَمَا زَالَ يُشْبِعُهُ بَصَرَهُ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ کہنے لگے: تو آپ ہی اس کو اُٹھا کر مجھ پر رکھ دیں۔ فرمایا: نہیں۔ پھر انہوں نے حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا عَجَبًا مِنْ حِرْصِهِ فَمَا قَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمْ۔ کچھ اور نکال ڈالے اور اس کے بعد اس مال کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور چل دیئے ۔ حضرت عباس جب تک ہم سے اوجھل نہیں ہو گئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھتے رہے۔ آپ کو ان کی حرص پر بہت تعجب ہوا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نہیں اُٹھے جب تک کہ اس مال میں سے ایک درہم بھی باقی رہا۔ (یعنی سب بانٹ کر اُٹھے۔) أطرافه: ٤٢١، ٣٠٤٩۔