صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 516 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 516

صحيح البخاری جلده ۵۱۶ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة يُوفَى لَهُمُ بِعَهْدِهِمْ وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَلَا يُكَلَّفُوا إِلَّا طَاقَتَهُمْ یعنی میں اس کو ( جو میرے بعد خلیفہ ہو ) اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان ( ذمیوں ) سے ان کا وہ عہد پورا کیا جائے (جو ان سے کیا گیا ہے ) اور ان کو بچانے کے لئے دشمنوں سے جنگ کی جائے اور اُن سے اتنا ہی کام لیا جائے جتنا وہ برداشت کر سکیں۔(دیکھئے کتاب الجهاد والسير باب ۱۷۴ ، روایت نمبر ۳۰۵۲) ان الفاظ کے پیش نظر رِزْقُ عِيَالِكُمْ کا مفہوم واضح ہے کہ ذمیوں کے ساتھ عدل و انصاف اور نرمی و مہربانی کا سلوک کرنے سے تمہارے تعلقات استوار رہیں گے اور آمدنی کی صورت قائم رہے گی۔$ بَاب ٤ : مَا أَقْطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَحْرَيْنِ وَمَا وَعَدَ مِنْ مَّالِ الْبَحْرَيْنِ وَالْجِزْيَةِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین ( کی اراضی ) میں سے جو ( جاگیریں) اور بحرین کے مالیہ اور جزیہ سے جو دینے کا وعدہ فرمایا وَلِمَنْ يُقْسَمُ الْفَيْءُ وَالْجِزْيَةُ۔ئے اور جزیہ کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔٣١٦٣: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۳۱۶۳ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيْدِ قَالَ نے ہمیں بتایا کہ یحی بن سعید سے روایت ہے کہ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ دَعَا انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ سنا۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو لِيَكْتُبَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ فَقَالُوْا لَا وَاللَّهِ بلایا تا ان کو بحرین کی سندیں لکھ دیں۔انہوں نے کہا: بخدا!! ہم نہیں لیں گے، جب تک کہ آپ ہمارے تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ تریش بھائیوں کو بھی ویسی ہی سندیں نہ لکھ دیں۔بمِثْلِهَا فَقَالَ ذَاكَ لَهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ آپ نے فرمایا: جب اللہ چاہے انہیں بھی ملیں گی۔وہ عَلَى ذَلِكَ يَقُوْلُوْنَ لَهُ قَالَ فَإِنَّكُمْ آپ سے یہی بات کہتے رہے۔آپ نے فرمایا: سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى عنقریب میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے تم پر تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ۔أطرافه ۲۳٣٧٦، ۲۳۷۷، ۳۷۹۔خود غرضی کی وجہ سے مقدم کئے جائیں گے تو اس وقت تک کہ تم مجھ سے حوض پر ملو، صبر کرنا۔