صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 515 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 515

صحيح البخاری جلده ۵۱۵ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة ہے۔ان کے بری اور بحری قافلے اور کشتیاں اللہ تعالیٰ اور نبی محمد ﷺ کی امان میں ہیں اور ان کے بھی جو اہل شام، اہل یمن اور اہل بحر میں سے ان کے ساتھ ہیں۔لیکن ان میں سے جو بھی اس معاہدہ کو توڑے گا تو اس کا مال اس کی جان نہیں بچا سکے گا۔اور لوگوں میں سے جو بھی اسے پکڑ لے گا، اس کے لیے وہ جائز ہوگا۔اور کسی کو بھی پانی اور بری و بحری راستہ سے روکا نہیں جائے گا۔} روایت نمبر ۳۱۶ کے لیے کتاب الهبة باب ۲۸ بھی دیکھئے۔مسئلہ معنونہ پر فقہاء متفق ہیں۔اس بارہ میں ان میں کوئی اختلاف نہیں۔بَاب ٣ : الْوَصَاةُ بِأَهْلِ ذِمَّةِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جو باشندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امان میں ہوں ان کی نسبت تاکیدی حکم وَالذَّمَّةُ الْعَهْدُ وَالْإِلُ الْقَرَابَةُ۔اور لفظ ذِمَّةٌ کے معنی عہد و پیمان اور ان کے معنی رشتہ داری کے ہیں۔٣١٦٢: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ۳۱۶۲ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ابو جمرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: سَمِعْتُ جُوَيْرِيَةَ بْنَ قُدَامَةَ التَّمِيمِيَّ میں نے جویریہ بن قدامہ تمیمی سے سنا۔انہوں نے کہا: قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔اللهُ عَنْهُ قُلْنَا أَوْصِنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ ہم نے کہا: امیر المؤمنین ہمیں وصیت کریں۔انہوں قَالَ أُوْصِيْكُمْ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَإِنَّهُ ذِمَّةُ نے کہا: میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کے عہد کی نَبِيِّكُمْ وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ۔نگہداشت رکھنا۔کیونکہ وہ عہد تمہارے نبی ﷺ کا عہد و پیمان ہے اور تمہارے بال بچوں کا رزق۔أطرافه ،۱۳۹۲ ، ۳۰۰۲، ۳۷۰۰، ۱۸۸۸، ۷۲۰۷ تشریح: الْوُصَاةُ بِأَهْلِ الدِّمَّةِ رَسُولِ اللَّهَ الْوُصَاةُ بِاَهْلِ الذِمَّةِ رَسُولِ اللهِ الا الله : عنوان باب میں الفاظ ذمة اور ان کی جو تشریح ط کی گئی ہے، اس سے قرآن مجید کی آیت ہے: لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلَّا وَّلَا ذِمَّةٌ * وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ ) (التوبة: 10) مؤمن سے متعلق نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہد کی ذمہ داری کا۔اور وہ (اپنی دشمنی میں ) حد سے گزرے ہوئے ہیں۔لیکن اس کے برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمیوں کے بارے میں عہد و پیمان کی نگہداشت رکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔بلکہ آپ نے دشمنوں سے بھی معاہدہ کا احترام فرمایا۔(دیکھئے کتاب الصلح باب۷) عمرو بن میمون کی روایت میں حضرت عمرؓ کے یہ الفاظ یوں منقول ہیں: أُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ لا أَنْ