صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 501
صحيح البخاری جلده ۵۰۱ ۵۷- کتاب فرض الخمس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسًا فِي حين کی جنگ ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم میں الْقِسْمَةِ فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ کچھ لوگوں کو مقدم کیا۔ چنانچہ اقرع بن حابس کو آپ مِائَةً مِّنَ الْإِبِلِ وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ نے سو اونٹ دیئے اور عیینہ ( بن حصن ) کو بھی اتنے ذَلِكَ وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ ہی دیئے اور کچھ ایسے آدمیوں کو بھی دیا جو شرفاء عرب الْعَرَبِ فَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ میں سے تھے تو اس دن آپ نے تقسیم میں ان کو مقدم قَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا کیا ۔ ایک شخص کہنے لگا: کہنے لگا: بخدا! یہ تقسیم تو ایسی ہے کہ اس عُدِلَ فِيْهَا وَمَا أُرِيْدَ بِهَا وَجْهُ اللهِ میں انصاف مدنظر نہیں رکھا گیا اور نہ اس سے اللہ کی فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله رضا مندی مقصود ہے۔ میں نے کہا: بخدا! میں تو نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ضرور بتاؤں گا۔ چنانچہ میں فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ آپ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: پھر رَحِمَ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوْذِيَ بِأَكْثَرَ اور کون انصاف کرے گا اگر اللہ اور اس کے رسول نے انصاف نہ کیا ؟ موسیٰ پر اللہ رحم کرے، ان کو اس مِنْ هَذَا فَصَبَرَ۔ سے بھی زیادہ دکھ دیا گیا اور انہوں نے صبر کیا۔ اطرافه: ٣٤٠٥، ٤٣٣٥ ، 4336، 6059، 6100، 6191، 6336۔ ٣١٥١: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ۳۱۵۱ محمود بن غیلان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ حضرت بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ كُنْتُ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کہ کہتی أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي تھیں: حضرت زبیر کی اس زمین سے جو رسول اللہ أَقْطَعَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم نے ان کو دی تھی ، میں اپنے سر پر وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ مِنِّي عَلَى کھجور کی گٹھلیاں اُٹھا کر لایا کرتی تھی اور یہ زمین دو ثُلُثَيْ فَرْسَحْ۔ وَقَالَ أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ تہائی فرسخ کے فاصلہ پر تھی۔ اور ابو مرہ نے یہ