صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 494 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 494

صحيح البخاری جلده - ۴۹۴ ۵۷ - کتاب فرض الخمس اشیاء اموال غنیمت میں داخل ہو جائیں تو نہیں لے سکتا۔مالکیوں اور حنفیوں کے نزدیک اس میں بھی امام کی طرف سے صراحت ضروری ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۹۷) (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۶۵) اسی اختلاف کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔گذشتہ ابواب کا موضوع بھی یہی ہے کہ تقسیم کا تعلق امام کی رائے پر موقوف ہے۔یہ باب بھی اسی کے تسلسل میں ہے۔باب ۱۹ مَا كَانَ النَّبِيُّ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوْبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخَمْسِ وَنَحْوِهِ ان لوگوں کو جن کی تالیف قلب مقصود ہوتی اور ان کے سوا دوسروں کو بھی غنیمت کے پانچویں حصے یا اسی قسم کے اموال میں سے جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرماتے سے روایت کی۔رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ يه حديث حضرت عبداللہ بن زیڈ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔٣١٤٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۳۱۴۳ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، زہری سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ نے سعید بن مسیب سے اور عروہ بن زبیر سے روایت أَنَّ حَكِيْمَ بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ الله عَنْهُ کی کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں قَالَ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا اور آپ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ نے مجھے دیا۔پھر میں نے آپ سے مانگا اور آپ نے مجھے دیا۔پھر مجھ سے فرمایا: حکیم یہ مال ہرا بھرا ہے۔الَ لِي يَا حَكِيْمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ شیریں ہے۔سو جس نے سیر چشمی اور سخاوت نفس حُلْوٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ سے اسے لیا تو اس کو اس میں برکت دی جائے گی اور بُوْرِكَ لَهُ فِيْهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ جس نے نفس کے لالچ سے اسے لیا، اس کے لئے نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيْهِ وَكَانَ كَالَّذِي اس میں برکت نہ ہوگی اور وہ اس شخص کی مانند ہوگا جو يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور (یاد رکھو) اوپر کا ہاتھ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ حَكِيْمٌ فَقُلْتُ نچلے ہاتھ سے اچھا ہوتا ہے۔حضرت حکیم کہتے تھے: