صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 492
صحيح البخاری جلده ۴۹۲ ۵۷ - کتاب فرض الخمس ٣١٤٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۳۱۴۲ : عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ مَالِكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ انہوں نے مالک سے، مالک نے یحی بن سعید سے، ابْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي کي نے (عمر بن کثیر ) بن افلح سے، ابن افلح نے قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابو محمد سے جو حضرت ابو قتادہ سے جو حضرت ابو قتادہ کے غلام تھے۔ ابو محمد نے قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ کہتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا تھے: جس شمال حنین کی جنگ ہوئی ہم نبی صلی اللہ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ فَرَأَيْتُ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ جب ہماری مڈ بھیڑ ہوئی تو مسلمان ادھر اُدھر ہٹ گئے اور میں نے مشرکوں میں رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِكِيْنَ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدْبَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان شخص کے اوپر مِنْ وَرَائِهِ حَتَّى ضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَى چڑھا ہوا ہے۔ میں گھوم کر پیچھے سے اس کے پاس آیا حَبْلٍ عَاتِقِهِ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً ا اور تلوار سے اس کے مونڈھے کی رگ پر ایک ضرب لگائی۔ وہ مجھ پر لپکا اور اس نے مجھے ایساد بوچا کہ میں وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ نے موت کی بو سونگھی۔ مگر موت نے اس کو آپکڑا اور الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں حضرت عمر بن خطاب سے الْخَطَّابِ فَقُلْتُ مَا بَالُ النَّاسِ قَالَ جاکر ملا اور میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوْا وَجَلَسَ نےکہا اللہ کا حکم۔ پھر اس کے بعد لوگ لوٹ آئے اور النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ في صل اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: جس نے کسی کو قتل قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ کیا ہو اور اس کے پاس اس کا ثبوت بھی ہو تو اسی کا وہ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ سامانِ عنیمت ہے جو مقتول سے لیا گیا ہو۔ میں کھڑا ہوا جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ اور میں نے کہا: میرے لئے کون گواہی دے گا ؟ اور یہ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ کہہ کر میں پھر بیٹھ گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: جس نے کسی لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ مِثْلَهُ کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس اس کا ثبوت بھی ہو تو اسی حمد فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ عَامَ حُنَيْنِ ہے ( فتح الباری جزء ۶ حاشیہ صفحہ ۲۹۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔