صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 488 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 488

صحيح البخاری جلده ۴۸۸ ۵۷- کتاب فرض الخمس كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِي حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي نے بدر کے قیدیوں کی نسبت فرمایا: اگر مطعم بن عدی فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ۔ زندہ ہوتے اور مجھ سے ان ناپاک لوگوں کے متعلق طرفه: ٤٠٢٤ سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر ان کو چھوڑ دیتا۔ تشريح : مَا مَنَّ النَّبِيُّ عَ عَلَى الْأَسَارَى مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخَمْسَ : فقہاء نے اختلاف کیا ہے کہ آیا امام کے لئے اصل غنیمت میں بھی تصرف کرنا جائز ہے یا صرف خمس ہی میں اسے اختیار ہے۔ جمہور کے نزدیک خمس کے علاوہ جو اموالِ غنیمت ہوں ان کی تقسیم میں ایک تہائی میں امام اپنا اختیار استعمال کر سکتا ہے کہ کسی حصہ فوج کو زیادہ دے یا کم دے۔ امام ابن حجر نے باب ۱۵ کی تشریح میں فقہاء کے فتوے تفصیل سے نقل کر کے امام شافعی کی رائے ان الفاظ میں بیان کی ہے : لَا يَتَحَدَّدُ بَلْ هُوَ رَاجِعٌ إِلَى مَا يَرَاهُ الْإِمَامُ مِنَ الْمَصْلِحَةِ یعنی امام کا اختیار کسی ایک فتویٰ سے محدود کرنا مناسب نہیں۔ بلکہ مصلحت وقت کے مطابق امام کو اختیار ہے اور انہوں نے اپنی رائے کی تائید میں آیت قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ (الأنفال (۲) سے استدلال کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۸۹) مذکورہ بالا استدلال الفاظ لَو كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِي حَيًّا ۔۔۔ سے بھی کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت نہ ہوتی تو ایسا نہ فرماتے۔ آپ کی شان سے بعید ہے کہ کوئی ناجائز امر کسی شرط سے بطور فرض معلق فرمائیں۔ اس استدلال پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ واقعہ بدر سورہ انفال سے پہلے کا ہے جبکہ غنیمت کے بارے میں واضح احکام نازل نہ ہوئے تھے۔ اس اعتراض کا جواب باب ۱۵ میں ہے جو حرف واؤ سے باب ۶ پر معطوف ہے۔ غزوة خيبر سورۃ الانفال کے نزول سے بعد کا ہے۔ اموال غنیمت میں سے ان لوگوں کو بھی دیا گیا جو جنگ میں شریک نہ ہوئے تھے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۳۱۳۶) بَاب ۱۷ : وَمِنَ الدَّلِيْلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِلْإِمَامِ اور اس بات پر دلیل کے غنیمت کا پانچواں حصہ امام کے لئے ہے وَأَنَّهُ يُعْطَي بَعْضَ قَرَابَتِهِ دُونَ بَعْضٍ اور وہ اپنے بعض رشتہ داروں کو دے اور بعض کو نہ مَّا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دے۔ یہ بھی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر لِبَنِي الْمُطَّلِبِ وَ بَنِي الْهَاشِمِ مِنْ کے پانچویں حصہ میں سے بنو مطلب اور بنو ہاشم کو حصہ خُمُسِ خَيْبَرَ قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ دیا۔ عمر بن عبدالعزیز کہتے تھے: آپ نے ان سب کو لَمْ يَعُمَّهُمْ بِذَلِكَ وَلَمْ يَخُصَّ قَرِيبًا نہیں دیا اور نہ ہی آپ نے ان لوگوں کو چھوڑ کر جو اس