صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 461 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 461

صحيح البخاری جلده ۴۶۱ ۵۷ - کتاب فرض الخمس حصہ نکالنے کے بعد شمس کی تقسیم میں اپنے محتاج عزیز واقارب پر دوسرے محتاجوں کو مقدم رکھا گیا۔آنحضرت ﷺ کا یہ فعل حجت ہے کہ اموال خمس کی تقسیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر تھی کہ چاہیں تو اپنی ذاتی ضروریات کے لئے خرچ کریں یا دوسروں کو دیں۔نَوَائِب جمع ہے نائبة کی۔جس کے معنی ہیں (حَادِثَة) ناگہانی ضرورت۔نَوَائِبُ رَسُول اللَّهِ سے ایسی ضرورتیں مراد ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رائے سے خرچ کرنے کے مجاز تھے۔آپ کے فعل سے مسئلہ معنونہ کا استنباط کر کے اگلے باب میں قرآن مجید کے حکم کا مفہوم واضح کیا گیا ہے۔بَاب : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى فَاَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ (الأنفال: ٤٢) اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر: اللہ اور رسول ہی کے لئے مال غنیمت کا پانچواں حصہ ہے يَعْنِي لِلرَّسُوْلِ قَسْمَ ذَلِكَ وَقَالَ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جسے آپ نے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا تقسیم کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں أَنَا قَاسِمٌ وَخَازِنٌ وَاللَّهُ يُعْطِي۔تو تقسیم کرنے والا اور خزانچی ہوں اور اللہ دیتا ہے۔٣١١٤: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۳۱۱۴ : ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ وَقَتَادَةَ ہمیں بتایا۔سلیمان منصور اور قتادہ سے مروی ہے۔أَنَّهُمْ سَمِعُوْا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے سنا۔وہ حضرت جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الله اللهُ عَنْهُمَا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے۔رَضِيَ أَنَّهُ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا مِنَ الْأَنْصَارِ انہوں نے کہا: ہم انصاریوں کے ہاں ایک شخص کے غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا لڑکا پیدا ہوا تو اس نے چاہا کہ اس کا نام محمد رکھے۔شعبہ نے اپنی اس حدیث میں کہا جو منصور سے قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيْثِ مَنْصُورٍ إِنَّ روایت ہے کہ انصاری نے کہا: میں نے اس بچے کو الْأَنْصَارِيَّ قَالَ حَمَلْتُهُ عَلَى عُنُقِي اپنی گردن پر اُٹھایا اور اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاس آیا۔اور سلیمان کی حدیث میں یوں ہے کہ وَفِي حَدِيْثِ سُلَيْمَانَ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام محمد رکھنا فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا قَالَ سَمُّوا چاہا تو آپ نے فرمایا: میرے نام پر نام تو رکھ لیکن بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي إِنَّمَا میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔مجھے قاسم بنایا گیا ہے۔