صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 454
صحيح البخاری جلده ۴۵۴ ۵۷ - کتاب فرض الخمس ط پہلی آیت یہ ہے: وَاذْكُرُنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا ه (الأحزاب: ۳۵) اور یا درکھو اللہ کی آیات اور حکمت کو جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے یقیناًا اللہ بہت باریک بین ( اور ) باخبر ہے۔دوسری آیت یہ ہے : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَّهُ (الأحزاب: ۵۴) {اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کر و سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے مگر اس طرح نہیں کہ اس کے پکنے کا انتظار کر رہے ہو۔} پہلی آیت میں گھر ازواج مطہرات کی طرف اور دوسری میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مضاف کئے گئے ہیں اور یہ اضافت عارضی استحقاق پر دلالت کرتی ہے۔مگر یہ استحقاق ایسا ہی تھا جیسے وقف اور موہوب لۂ سے متعلق۔یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد یہ گھر ان کے وارثوں کو نہیں ملے۔بلکہ مسجد نبوی میں شامل کئے گئے تھے۔اس باب میں سات روایتیں ہیں اور ساتوں ہی نفس مضمون کی تائید کرتی ہیں۔بابه مَا ذُكِرَ مِنْ دِرْعِ النَّبِيِّ ﷺ وَعَصَاهُ وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ اور عصا اور تلوار اور پانی پینے کا پیالہ اور مہر کی نسبت جو مذکور ہے اس کا بیان وَمَا اسْتَعْمَلَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ مِنْ ذَلِكَ نيز خلفاء نے ان میں سے جو چیزیں آپ کے بعد مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ قِسْمَتُهُ وَمِنْ شَعَرِهِ استعمال کیں۔یعنی جن کی تقسیم کا ذکر نہیں ہوا اور آپ وَنَعْلِهِ وَآنِيَتِهِ مِمَّا تَبَرُّكُ أَصْحَابُهُ کے بال اور آپ کی پاپوش اور برتنوں کی نسبت جو ذکر کیا گیا ہے جن سے آپ کے صحابہ وغیرہ آپ کی وَغَيْرُهُمْ بَعْدَ وَفَاتِهِ۔وفات کے بعد برکت حاصل کرتے تھے کہیے ٣١٠٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۳۱۰۶ : محمد بن عبد اللہ انصاری نے ہم سے بیان کیا، الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ثُمَامَةَ کہا: میرے باپ ( عبداللہ ) نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثمامہ سے مروی ہے کہ حضرت انس نے ہم سے بیان لَمَّا اسْتُخْلِفَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ وَخَتَمَهُ بِخَاتَمِ انہوں نے بحرین کی طرف انہیں زکوۃ وصول کرنے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ کے لئے بھیجا اور انہیں پروانہ لکھ کر دیا اور اس پر نبی کشمیہنی کی روایت میں اس جگہ متبرک کا لفظ ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۵۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔