صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 453
صحيح البخاری جلده رضِيَ ۴۵۳ ۵۷ - کتاب فرض الخمس اللهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيْبًا فَأَشَارَ نَحْوَ مَسْكَنِ کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے عَائِشَةَ فَقَالَ هَا هُنَا الْفِتْنَةُ ثَلَائًا لئے کھڑے ہوئے اور حضرت عائشہ کے مکان کی طرف اشارہ فرمایا اور تین بار فرمایا کہ فتنہ ادھر سے ہوگا حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ۔مِنْ جہاں سے شیطانی لوگوں کا خروج ہوگا۔اطرافه: ۳۲۷۹، ٣٥۱۱، ۰۲۹٦، ۷۰۹۲، ۷۰۹۳۔٣١٠٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۳۱۰۵ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مالک نے ہمیں خبر دی۔عبداللہ بن ابوبکر سے مروی بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ ہے۔انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في صلى اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ نے انہیں أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے اور وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ انہوں نے کسی انسان کی آواز سنی جو حضرت حفصہ صَوْتَ إِنْسَانِ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا تھا۔میں نے کہا: حَفْصَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ هَذَا رَجُلٌ يا رسول اللہ! یہ کوئی مرد ہے جو آپ کے گھر میں آنے يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ کی اجازت چاہتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَاهُ فُلَانًا لِعَمّ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ فلاں ہے جو حفصہ کا حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ رَضاعی چچا ہے۔رضاعت (دودھ پلانا ) ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے جو ولادت حرام کرتی ہے۔مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ۔اطرافه : ٢٦٤٦، ٥٠٩٩ له تشريح : مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِي : اس باب میں یہ بتایا گیاہے کہ لباس اورگھر یلو عالم سامان معیشت کے علاوہ مکانات کا مہیا کرنا بھی بیت المال کا فرض تھا۔باب میں قرآن مجید کی آیات کے حوالہ سے ظاہر ہے کہ گھر ازواج مطہرات کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ابن منیر کی رائے میں اس سے ان کا دائمی استحقاق ثابت کرنا مقصود ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۵۳) (عمدۃ القاری جزء۱۵ صفحه ۲۸)