صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 449
صحيح البخاری جلده ۴۴۹ ۵۷ - کتاب فرض الخمس شَطْرُ شَعِيْرٍ فِي رَبِّ لِي فَأَكَلْتُ مِنْهُ کہ میرے گھر میں کچھ نہ تھا جو جگر والا (جاندار ) کھاتا، حَتَّى طَالَ عَلَيَّ فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ۔ سوائے آدھے وسق جو کے جو پر چھتی پر تھے تو میں اسی سے کھاتی رہی یہاں تک کہ ایک مدت گزر گئی تو طرفه: ٦٤٥١ - میں نے اسے ماپا اور وہ ختم ہو گئے۔ ۳۰۹۸: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۳۰۹۸: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یچی ( قطان ) عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) سے مروی ہے۔ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ قَالَ انہوں نے کہا: ابواسحق نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: میں نے حضرت عمرو بن حارث سے سنا کہ انہوں إِلَّا سِلَاحَهُ وَبَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَأَرْضًا نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (وفات کے وقت ) تَرَكَهَا صَدَقَةً۔ اطرافه: ۲۷۳۹، ٢٨۷۳، ٢٩١٢، ٤٤٦١۔ کچھ جائیداد نہیں چھوڑی سوا اپنے ہتھیار اور سفید خچر اور کچھ زمین کے ۔ ان سب چیزوں کو آپ نے بطور صدقہ چھوڑا تھا۔ صلى الله ) تشريح : نَفَقَهُ نِسَاءِ النَّبِي بَعْدَ وَفَاتِهِ : آنحضرت کی و مرت علی کی وفات کے بعد خلیفہ وقت جسے جائیداد صلى الله کا منتظم مقرر کرتے وہ عامل کہلاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی وصیت مذکورہ بالا سے ظاہر اہر ہے کہ آپ کا ترکہ وراثت کا ترکہ نہ تھا کہ آپ کے اہل بیت یا اولاد میں تقسیم ہوتا۔ البتہ بیت المال ان کے اخراجات کا ذمہ دار تھا۔ اس بارہ میں اہل بیت کی شہادت سے بڑھ کر اور کس کی شہادت قابل وثوق ہو سکتی ہے۔ تینوں روایتیں اس بارے میں متفق ہیں ۔ بَاب ٤ : مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُؤْتِ إِلَيْهِنَّ جو ذکر نبی ﷺ کی ازواج کے گھروں کے بارے میں آیا ہے اس کا بیان نیز گھروں کا ان کی طرف نسبت دینا وَقَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَقَرْنَ فِي اور اللہ عز و جل کے اس ارشاد کا ذکر : اے نبی کی بیویو! بُيُوتِكُنَّ (الأحزاب: ٣٤) وَلَا تَدْخُلُوا تم اپنے گھروں میں وقار سے رہو۔ اور اے مسلمانو !