صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 447 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 447

صحيح البخاری جلده ۴۴۷ ۵۷ - کتاب فرض الخمس بَاب ٢ : أَدَاءُ الْخُمُسِ مِنَ الدِّيْنِ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا بھی دین کا ایک حصہ ہے ٣٠٩٥ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۳۰۹۵ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید ) حَمَّادٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِي قَالَ نے ہمیں بتایا کہ ابو جرہ ضعی سے مروی ہے کہ انہوں سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے کہا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے يَقُولُ قَدِمَ وَقْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالُوا سنا کہ عبدالقیس قبیلے کے لوگ آئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم لوگ ربیعہ قبیلے کی ایک شاخ ہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مصر بستے ہیں۔ ہم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ فَلَسْنَا آپ کے پاس نہیں پہنچ سکتے مگر محرم کے مہینے ہی میں ۔ تو نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ آپ ہمیں ایسی بات کا حکم دیں جس پر ہم خود عمل کریں فَمُرْنَا بِأَمْرِ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ اور اس کی طرف ان لوگوں کو بلائیں جو ہمارے پیچھے مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعِ (ملک میں ) ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں چار باتیں وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعِ الْإِيْمَانِ بِاللَّهِ کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں۔ شَهَادَةِ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَقَدَ بِيَدِهِ (جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں ) اللہ پر ایمان لانا یعنی یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ( یہ کہہ کر ) آپ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَصِيَامِ نے اپنے ہاتھ کی انگلوں پر گرہ دی ( یعنی ایک شمار کیا ) رَمَضَانَ وَأَنْ تُؤَدُّوْا لِلَّهِ خُمُسَ مَا اور نماز با جماعت قائم کرنا اور زکوۃ دینا اور رمضان غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيْرِ کے روزے رکھنا اور جو مال غنیمت تم حاصل کرو اس وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ۔ میں سے پانچواں حصہ اللہ کے کاموں کے لئے مخصوص کرنا اور میں تمہیں کدو کے تو بنے اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور سبز لاکھی برتن اور روغنی برتن سے روکتا ہوں (جن میں شراب تیار کی جاتی ہے۔ ) اطرافه: ٥٣ ٨٧، ۵٢٣، ۱۳۹۸ ، ۳۵۱۰، ٤٣٦٨ ، ٤٣٦٩ ، ٦١٧٦، ٧٢٦٦، ٧٥٥٦۔ تشريح : أَدَاءُ الْخُمْسِ مِنَ الدِّينِ : لفظ مَا غَنِمُتُم سے مطلق اموال مراد ہے مراد ہیں، خواہ میدان جنگ میں حاصل ہوں یا مفتوحہ اراضی سے بصورت کے ۔ جمہور نے غنیمت اور فے کے درمیان فرق کیا ہے۔ وہ