صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 438 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 438

صحيح البخاری جلده ۴۳۸ ۵۷ - کتاب فرض الخمس الصِّدِّيقَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُوْلِ اللهِ کی وفات کے بعد مطالبہ کیا کہ انہیں اس میراث سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا حصہ دیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال کے مِيْرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله سے بطور ترکہ چھوڑی ہے۔ (یعنی وہ اموال جو بغیر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ۔ جنگ کے اللہ نے آپ کو عطا کئے ۔) اطرافه: ۳۷۱۱، ٤۰۳۵، ٤٢٤٠، ٦٧٢٥۔ ۳۰۹۳: فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ ۳۰۹۳ تو حضرت ابو با رت ابو بکر نے ان سے کہا کہ رسول اللہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ فَغَضِبَتْ ہوگا ۔ جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ اس سے فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ ناراض ہو گئیں اور صلى الله حضرت ابو بکر سے ملنا چھوڑ دیا اور اس وقت تک انہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ چھوڑے رکھا کہ وہ فوت ہوگئیں اور رسول اللہ رسول ﷺ کے تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بعد چھ ماہ ہی زندہ رہیں۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فاطمہ حضرت ابو بکر سے اپنا حصہ اموال خیبر و فدک اور سِتَةَ أَشْهُرٍ قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ صدقات مدینہ سے مانگتی تھیں جو ں جو رسول الله علی چھوڑ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ گئے تھے۔ حضرت ابوبکر نے یہ جائیدادیں انہیں دینے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو عمل رسول اللہ ﷺ کیا کرتے ۔ خَيْبَرَ وَفَدَكَ وَصَدَقَتَهُ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى تھے، میں اس میں سے کوئی بات چھوڑنے والا نہیں أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ لَسْتُ ہوں مگر وہ ضرور کروں گا۔ کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر تاركًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ آپ کے حکم سے کوئی بات میں نے چھوڑ دی، دی، کہیں الله سیدھے راستہ سے بھٹک نہ جاؤں ۔ مدینہ میں جو يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ فَإِنِّي أَخْشَى آپ کے اموال صدقہ تھے تو حضرت عمر نے حضرت إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيعَ فَأَمَّا علیؓ اور حضرت عباس کے سپرد کر دیئے ۔ لیکن خیبر اور صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى فدک میں جو جائیدادیں تھیں حضرت عمرؓ نے انہیں روک