صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 430
صحيح البخاری جلده - ۴۳۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ٣٠٨٦ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا بِشْرُ :۳۰۸۶ علی بن مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بن مفضل نے ہمیں بتایا۔یحی بن ابی اسحق نے ہم سے إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ بیان کیا۔انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ عَنْهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَ النَّبِيِّ سے روایت کی کہ وہ اور حضرت ابوطلحہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں چلے آرہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ النَّبِيِّ کے ساتھ حضرت صفیہ تھیں۔جنہیں آپ نے اپنے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةُ يَرْدِقُهَا ھے اوٹنی پر بٹھایا ہوا تھا۔جب وہ راستے میں ایک عَلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ جگہ پر پہنچے تو اونٹنی نے ٹھوکر کھائی اور نبی صلی اللہ علیہ الطَّرِيقِ عَثَرَتِ الدَّابَّةُ فَصُرِعَ النَّبِيُّ وسلم اور حضرت صفیہ گر پڑے اور حضرت ابوطلحہ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ وَإِنَّ ( میرا خیال ہے ) یوں کیا: وہ اپنے اونٹ سے فوراً کود أَبَا طَلْحَةَ قَالَ أَحْسِبُ قَالَ اقْتَحَمَ پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے عَنْ بَعِيْرِهِ فَأَتَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ اور عرض کیا: نبی اللہ ! میں آپ پر قربان۔کیا آپ کو چوٹ تو نہیں آئی؟ آپ نے فرمایا: نہیں مگر تم اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي عورت کی خبر لو۔حضرت ابوطلحہ نے اپنا کپڑا اپنے منہ اللَّهُ فِدَاءَكَ هَلْ أَصَابَكَ مِنْ شَيْءٍ پرڈالا اور حضرت صفیہ کی طرف گئے اور آ کر اپنا کپڑا قَالَ لَا وَلَكِنْ عَلَيْكَ الْمَرْأَةَ فَأَلْقَى اُن پر ڈال دیا اور وہ اُٹھ کھڑی ہوئیں۔پھر حضرت أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَصَدَ ابوطلحہ نے ان کی اونٹنی ان کے لئے مضبوط کس دی اور قَصْدَهَا فَأَلْقَى ثَوْبَهُ عَلَيْهَا فَقَامَتِ وہ دونوں سوار ہو گئے اور چل دیئے۔جب مدینہ کی الْمَرْأَةُ فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا اونی سطح پر پہنچے یا کہا کہ جب بلندی پر پہنچ کر مدینہ نظر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم لوٹ کر آنے فَرَكِبَا فَسَارُوْا حَتَّى إِذَا كَانُوْا بِظَهْرِ والے ہیں۔اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں سے الْمَدِينَةِ أَوْ قَالَ أَشْرَفُوْا عَلَى الْمَدِينَةِ تو بہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کی عبادت کرنے قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ والے، اپنے رب کی ستائش کرنے والے ہیں۔اس آيبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ وقت تک کہ آپ مدینہ میں داخل ہوئے آپ یہی