صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 429
صحيح البخاری جلده ۴۲۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ٣٠٨٥ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا :۳۰۸۵: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ نے ہمیں بتایا، کہا: بجلی بن ابی اسحق نے مجھ سے بیان أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسِ بْن مَالِكِ کیا۔انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ کے ساتھ تھے۔جب آپ عسفان سے لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی اونٹنی پر سوار رَضِيَ عُسْفَانَ وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھے اور آپ نے حضرت صفیہ بنت حیی کو پیچھے بٹھایا ہوا وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَقَدْ أَرْدَفَ صَفِيَّةَ تھا۔آپ کی اونٹنی نے ٹھوکر کھائی اور دونوں گر پڑے۔بِنْتَ حُيَةٍ فَعَثَرَتْ نَاقَتُهُ فَصُرِعًا حضرت ابوطلحہ یہ دیکھ کر فورا اونٹ سے کو دے اور بولے: جَمِيْعًا فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا يا رسول اللہ ! میں آپ پر قربان۔آپ نے فرمایا: اس یا رَسُولَ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ قَالَ عورت کی خبر لو۔حضرت ابوطلحہ نے اپنے منہ پر کپڑا عَلَيْكَ الْمَرْأَةَ فَقَلَبَ ثَوْبًا عَلَى وَجْهِهِ ڈال لیا اور حضرت صفیہ کے پاس آئے اور وہ کپڑا وَأَتَاهَا فَأَلْقَاهُ عَلَيْهَا وَأَصْلَحَ لَهُمَا اُن پرڈالا اور ان دونوں کی سواری درست کی جس پر مَرْكَبَهُمَا فَرَكِبَا وَاكْتَنَفْنَا رَسُوْلَ اللَّهِ وہ سوار ہو گئے اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَشْرَفْنَا کے گرد حلقہ بنالیا۔جب ہم مدینہ کی بلندی پر پہنچے تو عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ آيبُونَ تَائِبُونَ آپ نے فرمایا: ہم لوٹ کر آنے والے ہیں، ہم اپنے عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ فَلَمْ يَزَلْ رب کے حضور توبہ کرنے والے ہیں۔اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی ستائش کرنے يَقُوْلُ ذَلِكَ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ۔والے ہیں۔آپ اس وقت تک کہ مدینہ میں داخل ہوئے یہی کلمات فرماتے رہے۔اطرافه: ۳۷۱، ٦١٠ ، ٩٤٧ ،۲۲۲۸، ۲۲۳۵، ۲۸۸۹، ۲۸۹۳، ٢٩٤۳، ٢٩٤٤، ٢٩٤٥، ،٤۱۹۸ ،۱۹۷ ،٣٣٦٧، ٣٦٤٧، ٤٠٨٣، ٤٠٨٤ ،۳۰۸۶ ،۲۹۹۱ ،۵۱۶۹ ،۵۱۵۹ ،۵۰۸۵ ،۱۲۱۳ ،٤۲۱۲ ،٤٢، ٤٢١١۰٤، ١۲۰۰ ،۶۱۹۹ ٥۳۸۷، ٥٤٢٥، ۰۰۲٨، ٥۹۶۸، ٦١٨٥ ٦٣٦٣، ٦٣٦٩ ٧٣٣٣۔