صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 422
صحيح البخاری جلده ۴۲۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير جَدِي إِنَّا نَرْجُو أَوْ نَخَافُ أَنْ نَّلْقَى نکل جائے تو تم اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔ الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدَّى أَفَتَذْبَحُ (یعنی تیر مار کر گر الو عبایہ کہتے تھے:) میرے دادا نے بِالْقَصَبِ فَقَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ کہا: ہم امید کرتے ہیں یا کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے کل دشمن سے ہمارا مقابلہ ہو اور ہمارے پاس چھریاں نہیں اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأَحَدَتُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا تو کیا ہم کھپانچ (سرکنڈے) ہی سے ذبح کر لیں۔ آپ نے فرمایا: جو چیز بھی خون بہادے اور اس پر اللہ السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى کا نام لیا جائے وہ کھالو۔ مگر دانت اور ناخن سے ذبح الْحَبَشَةِ۔ کرنا درست نہیں اور میں اس کی وجہ بتائے دیتا ہوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ اطرافه ۲٤٨٨ ، ۲۰۰۷، ۵۴۹۸، ۵۵۰۳، ۵۵۰۶، ٥٥۰۹، ٥٥٤٣، ٥٥٤٤۔ تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنْ ذَبْحِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ فِي الْمَغَانِمِ: تقسیم غنائم سے قبل بغیر اجازت کسی مال میں کسی قسم کا تصرف جائز نہیں ۔ باب ۱۹۲ : الْبِشَارَةُ فِي الْفُتُوْحِ فتح کی خوشخبری دینا ٣٠٧٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۳۰۷۶: محمد بن شنی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم سے حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ يحي (قطان) نے بیان کیا ہمیں اسماعیل ( بن ابی خالد ) حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ قَالَ لِي جَرِيرُ نے بتایا، کہا: قیس ( بن ابی حازم ) نے مجھ سے بیان ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ کیا ۔ کہتے تھے کہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ لِي رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے فرمایا: کیا تم ذوالخلصہ سے مجھے چھٹکارا نہیں دلاؤ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ گے اور یہ ایک نے بنایا تھا۔ بت خانہ تھا جو قبیلہ خشم نے بَيْتًا فِيْهِ خَنْعَمُ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ اسے یمنی کعبہ کہتے تھے۔ میں احمس قبیلہ کے ایک سو فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِيْنَ وَمِائَةٍ مِّنْ پچاس مرد لے کر چل پڑا۔ یہ سب اچھے سوار تھے۔ میں أَحْمَسَ وَكَانُوْا أَصْحَابَ خَيْلٍ فَأَخْبَرْتُ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں گھوڑے پر جم کر