صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 172 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 172

صحيح البخاری جلده وَهِيَ ۱۷۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير أُمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ أَتَتِ ام ربيع بنت براء جو حارثہ بن سراقہ کی والدہ تھیں نبی النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں بیا نبی اللہ! يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا تُحَدِّثُنِي عَنْ حَارِثَةَ کیا آپ مجھے حارثہ کے متعلق کچھ بتائیں گے اور وہ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهُمْ غَرْب بدر کی جنگ میں مارے گئے تھے۔انہیں اچانک ایک فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَإِنْ كَانَ تیر آلگا۔اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی غَيْرَ ذَلِكَ اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ فِي الْبُكَاءِ اور اگر کچھ اور بات ہے تو پھر میں اس کے لئے قَالَ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ خوب روؤں گی۔آپ نے فرمایا: ام حارثہ! جنت وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى۔میں تو درجہ بدرجہ کئی باغ ہیں اور تیرے بیٹے نے تو فردوس اعلیٰ کا مقام حاصل کیا ہے۔تشریح: اطرافه: ٣۹۸۲، ٦٥٥٠، ٦٥٦٧۔مَنْ أَتَاهُ سَهُمْ غَرُبٌ فَقَتَلَهُ : سَهُمْ غَرُبٌ اور سَهُمُ غَرُب دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔یعنی صفت موصوف یا اضافت کے ساتھ۔بعض نے غرب بھی پڑھا ہے۔عربی زبان کے لحاظ سے دونوں طرح پڑھنا جائز ہے اور معنی یہ ہوں گے کہ ایسا تیر جو معلوم نہ ہو کہ کدھر سے آیا ہے اور کس نے چلایا ہے۔حضرت حارثہ بن سراقہ کی والدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور دریافت کیا کہ شہادت کے بعد ان کے بیٹے کا کیا حال ہے۔یہ غزوہ بدر میں شہید ہوئے تھے۔حضرت حارثہ میدانِ جنگ میں ایک حوض سے پانی پی رہے تھے کہ ایک تیر اچانک لگا اور وہ شہید ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی والدہ جواب سن کر بَحْ بَحْ لَكَ يَا حَارِثَةُ کہتے ہوئے لوٹیں۔(عمدۃ القاری جز ۴ صفحہ ۱۰۶، ۱۰۷) آہ وفغاں کی جگہ خوش ہو کر اپنے بیٹے کی تعریف کرنے اور اسے دعا ئیں دینے لگیں۔بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی کی تاثیر نے صحابہ کا طرز فکر بدل دیا تھا۔اس نیک ماں کو فکر تھا کہ ان کا بیٹا میدان جنگ میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید نہیں ہوا۔اس لئے کہیں وہ ثواب شہادت سے محروم نہ رہے۔صحابہ اور صحابیات کا نمونہ قابل رشک ہے۔مائیں جو بیٹوں کی جدائی برداشت نہیں کر سکتیں وہ بھی خوش ہیں کہ ان کے بیٹوں نے درجہ شہادت پایا۔حضرت حارثہ انصار میں سے پہلے شہید تھے اور ان کی ماں کا نمونہ اخلاص میں اول درجہ پر آتا ہے۔وَهِيَ أَمْ حَارِثَةَ بنِ سُرَاقَةَ کے الفاظ سے جو وضاحت کی گئی ہے وہ بلا وجہ نہیں۔کیونکہ قتادہ کی نسبت کہا جاتا ہے کہ ضبط الفاظ میں ان کا حافظہ قوی نہ تھا یہی صحاح ستہ کی بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت ربیع نضر کی بیٹی تھیں اور طبقات المدلسين المرتبة الثالثة قتادة بن دعامة السدوسي، جزء اول صفحه ۴۳)