صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 171
صحيح البخاری جلده 121 ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بیان نہیں کیا کہ حضرت ابو درداء ( بن مالک) نے کس موقع پر لوگوں سے مخاطب ہو کر معنونہ فقرہ کہا۔ہاں آیت محولہ بالا اور روایت زیر باب سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی میدانِ جنگ میں انہوں نے غازیوں سے خطاب کیا ہے۔کیونکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اعمال صالحہ کی بجا آوری سے ہی ایک قوم کا شیرازہ مضبوط ہوتا ہے اور اس کے بغیر تفرقہ وانتشار ہے اور ارشاد نبوی مندرجہ روایت نمبر ۲۸۰۸ سے بھی ذہن نشین کیا گیا ہے کہ بعض وقت چھوٹے سے عمل صالح بجالانے سے بڑے سے بڑے عمل صالح کی توفیق مل جاتی ہے۔روپوش مجاہد نے اسلام قبول کرتے ہی جو نہی کہ ایک حکم پر عمل کرنے کا موقع پایا۔اس نے اپنی طاقت سے اس پر عمل کیا اور درجہ شہادت پالیا۔اس واقعہ سے عمل صالح کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ وہ حکم کی بر محل تعمیل کا نام ہے۔عمل صالح کے لئے جہاں نیت صالح ضروری ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ برمل ہو اور جیسا کہ حق ہے کیا جائے۔ادھورا عمل عمل صالح نہیں۔اسی طرح بے موقع عمل بھی۔اس تعلق میں کتاب مواقیت الصلاة باب ۴، ۵ ، ۲۶،۱۷، ۴۰ بھی دیکھئے۔باب کی تشریح میں بتایا جاچکا ہے کہ اگر عین لڑائی کے وقت نماز شروع کر دی جائے تو یہ عمل صالح نہ ہوگا۔اس مضمون کے تعلق میں کتاب الایمان باب ۱۷، ۱ام بھی دیکھئے۔سیرۃ صالحہ کے تعلق میں حضرت انس بن نضرہ کا واقعہ اور اس خود پوش تومسلم مجاہد کا واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام نے جو زبان سے کہا اسے پورا کر دکھایا۔سورہ صف کی محولہ بالا آیات کا تعلق صحابہ کرام سے نہیں بلکہ نام نہاد مسلمانوں سے ہے جو پراگندہ حال تفرقہ و انتشار میں ہیں۔جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ نہیں کرتے۔کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔کامیاب جہاد کے لئے پہلی اور اہم شرط عمل صالح ہے ؛ یہ مضمون ہے اس باب کا۔رَجُلٌ مُّقَنَّع بِالْحَدِیدِ خود پہنے ہوئے اس مجاہد کے نام سے متعلق ابن اسحاق نے کتاب المغازی میں حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت صحیح سند سے نقل کی ہے جس میں اس قسم کا واقعہ عمرو بن ثابت کی نسبت بیان کیا گیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کہا کرتے تھے کہ ایسا شخص بتاؤ جس نے نماز بھی نہ پڑھی ہو اور پھر وہ جنت میں داخل ہو گیا ہو؟ یہ کہ کر ان ہی کا نام لیا کرتے تھے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۲) بَاب ١٤ : مَنْ أَتَاهُ سَهُمْ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ جس کو اچانک تیر آلگے اور وہ اسے ہلاک کر دے ۲۸۰۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۲۸۰۹ محمد بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو أَحْمَدَ حسین بن محمد ابو احمد نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا) حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ شیبان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے روایت ابْنُ مَالِكِ أَنَّ أُمَّ الرُّبَيْعِ بِنْتَ الْبَرَاءِ کی کہ حضرت انس بن مالک نے ہم سے بیان کیا کہ