صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 170
صحيح البخاری جلده 12+ باب ۱۳ : عَمَلٌ صَالِحٌ قَبْلَ الْقِتَالِ لڑائی سے پہلے نیک کام کرنا ۵۶ - كتاب الجهاد والسير وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِنَّمَا تُقَاتِلُوْنَ حضرت ابودر دائر نے کہا: تم اپنے نیک کاموں کی وجہ بِأَعْمَالِكُمْ وَقَوْلُهُ : يَايُّهَا الَّذِيْنَ سے ہی لڑ رہے ہو اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اے وہ لوگو جو امَنُوْا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَO ایمان لائے ہو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ اَنْ تَقُولُوا نہیں۔اللہ کو یہ بات بہت نا پسند ہے کہ تم ایسی بات مَا لَا تَفْعَلُوْنَ o إِنَّ اللهَ يُحِبُّ کہو جسے کرتے نہیں۔اللہ تو ان لوگوں کو ہی پسند کرتا الَّذِيْنَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيْلِهِ صَفًّا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صفیں باندھے جم کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ ایک نہایت مضبوط سیسہ پلائی كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوص (الصف:۳-۵) دیوار ہیں۔۲۸۰۸ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ :۲۸۰۸ محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بنُ شبابه بن سوار فزاری نے ہمیں بتایا کہ اسرائیل نے سَوَّارِ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيْلُ عَنْ ہمیں خبر دی۔انہوں نے ابواسحق سے روایت کی کہ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت براء بن عازب) لهُ يَقُوْلُ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبیصلی مُقَنَّعٌ بِالْحَدِيْدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کے پاس ایک شخص آیا جو خود سے منہ چھپائے ہوئے تھا۔اس نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں پہلے لڑوں یا أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمُ قَالَ أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ اسلام قبول کروں؟ آپ نے فرمایا: پہلے اسلام قبول کرو فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ پھر لڑو۔چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا پھر وہ لڑا اور مارا گیا۔عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجْرَ كَثِيرًا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کام تو تھوڑا کیا مگر ثواب بہت لے لیا۔تشریح: عَمَلٌ صَالِحٌ قَبْلَ الْقِتَالِ : عنوانِ باب میں حضرت ابو دردانو کے مندرجہ قول سے مراد یہ ہے کہ ایک عمل صالح کی برکت سے دوسرے عمل صالح کی توفیق ملتی ہے۔شارحین نے اس حوالے سے متعلق یہ