صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 161
صحيح البخارى جلده ۱۶۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوْا کہ اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا۔تب جبرائیل رَبَّهُمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ فَكُنَّا علیہ السلام نے نبی ﷺ کو بتادیا کہ وہ اپنے رب سے نَقْرَأُ أَنْ بَلِّغُوْا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِيْنَا رَبَّنَا چاہتے ہیں اور وہ ان سے خوش ہے اور اس نے ان کو بھی خوش کر دیا ہے۔(حضرت انسؓ کہتے تھے کہ ) ہم یوں فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ فَدَعَا عَلَيْهِمْ أَرْبَعِيْنَ صَبَاحًا عَلَى پڑھا کرتے تھے: ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جاملے ہیں۔وہ ہم سے خوش ہو گیا اور رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ وَبَنِي اس نے ہم کو خوش کر دیا۔پھر اس کے بعد اس کا پڑھنا عُصَيَّةَ الَّذِيْنَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ۔منسوخ ہو گیا۔نبی ﷺ نے چالیس دن تک صبح کو ریل، ذکوان، بنی لحیان اور بنی عصیہ کے خلاف دعا کی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی۔اطرافه: ۱۰۰۱، ۱۰۰۲، ۱۰۰۳، ۱۳۰۰، ۲۸۱۴، ۳۰٦٤ ، ۳۱۷۰، ٤٠۸۸، ٤٠٨٩، ٤٠٩٠، ٤٠٩١ ٤٠٩٢، ٤٠٩٤، ٤٠٩٥، ٤٠٩٦، ٦٣٩٤، ٧٣٤١۔: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۲۸۰۲ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ هُوَ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسود بن قیس سے، ابْنُ قَيْسٍ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ اسود نے جندب بن سفیان سے روایت کرتے ہوئے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ قَدْ دَمِيَتْ شریک تھے۔آپ کی انگلی زخمی ہوگئی تو آپ نے یہ إِصْبَعُهُ فَقَالَ: شعر پڑھا: هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيْتِ تو ایک انگلی ہی ہے جو زخمی ہو ئی ہے وَفِي سَبِيْلِ اللَّهِ مَا لَقِيْتِ اور جو تجھے تکلیف پہنچی ہے وہ اللہ کی راہ میں ہے طرفه: ٦١٤٦۔تشريح : مَنْ يُنْكَبُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: بنكبة کے دومعانی ہی نا گہانی اثہ اور زخمی ہوا۔(عمدۃ القاری جز ۱۴ صفحہ ۹۷) اس باب میں دونوں امور کا ذکر ہے۔بئر معونہ کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایک اہم واقعہ ہے جو یا بقول ابن سعد غزوہ اُحد کے چار ماہ بعد ماہ صفر۳ ہجری میں پیش آیا۔بئر معونہ مدینہ سے چار منزل (یعنی یہ میل کے فاصلہ )