صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 160 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 160

صحيح البخاری جلده = 17۔۵۶ - كتاب الجهاد والسير فَنَزَلُوا الشَّام سے مراد شارحین نے مُتَوَجَهِينَ إِلَى نَاحِيَةِ الشَّامِ لی ہے۔(عمدۃ القاری جزء۴ صفحہ ۹۷) یعنی ملک شام کو جانے کا قصد تھا۔حضرت ام حرام کا واقعہ شہادت زیر باب ۳ بھی گذر چکا ہے۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کی خواہش جہاد اور دعا کے لئے درخواست قلب کی گہرائی سے پیدا ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جام شہادت پلا کر ان کی خواہش پوری فرما دی۔رَضِيَ بَاب ٩ : مَنْ يُنْكَبُ { أَوْ يُطْعَنُ} فِي سَبِيْلِ اللهِ جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی حادثہ یا زخم پہنچے :۲۸۰۱: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرُ :۲۸۰۱ حفص بن عمر (الحوضی ) نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسِ ہمام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسحاق ( بن عبد اللہ بن اللهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ الى طلحہ) سے، اسحاق نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامًا مِنْ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے بنی سلیم میں بَنِي سُلَيْمٍ إِلَى بَنِي عَامِرٍ فِي سے کچھ لوگوں کو جوستر کی تعداد میں تھے ، بنی عامر کی سَبْعِيْنَ فَلَمَّا قَدِمُوا قَالَ لَهُمْ خَالِی طرف بھیجا۔جب وہ وہاں پہنچے تو میرے ماموں أَتَقَدَّمُكُمْ فَإِنْ أَمَنُوْنِي حَتَّى أُبَلَغَهُمْ (حرام بن ملحان ) نے انہیں کہا: ( تم ٹھہرو!) میں تم سے آگے جاتا ہوں، اگر انہوں نے مجھے امن دیا، یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ کا پیغام انہیں پہنچا سکوں تو بہتر عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَّا كُنْتُمْ مِنِّي قَرِيْبًا فَتَقَدَّمَ فَأَمَّنُوْهُ فَبَيْنَمَا يُحَدِّثُهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ ور نہ تم میرے قریب ہی ہو۔چنانچہ وہ آگے گئے اور لوگ ان کے ساتھ امن سے پیش آئے۔ابھی وہ ان سے نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَوْمَنُوْا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ لانے کی باتیں کر رہے تھے کہ انہوں نے اپنے ایک شخص فَطَعَنَهُ فَأَنْفَذَهُ فَقَالَ اللهُ أَكْبَرُ فُرْتُ کو اشارہ کیا جس نے ان کو برچھا مارا، جو اُن کے بدن وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثُمَّ مَالُوْا عَلَى بَقِيَّةِ سے پا نکل گیا اور انہوں نے کہا: اللہ اکبر کعبہ کے رب کی أَصْحَابِهِ فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا رَجُلٌ أَعْرَجُ قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا۔پھر وہ ان کے باقی ساتھیوں صَعِدَ الْجَبَلَ قَالَ هَمَّامٌ وَأُرَاهُ آخَرَ پر پل پڑے اور ان کو مار ڈالا، سوائے ایک لنگڑے شخص مَعَهُ فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ النَّبِيَّ کے جو پہاڑ پر چڑھ گیا تھا۔ہمام کہتے تھے میں سمجھتا ہوں 66 الفاظ او يُطْعَنُ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۲ حاشیہ صفحہ ۲۴)