صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 159
صحيح البخاری جلده ۱۵۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ سامنے پیش کئے گئے جو اس بحر اخضر (میں جہازوں ) الْأَخْضَرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قَالَتْ پر سوار ہو رہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر ہوں۔حضرت فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا اتم حرام نے کہا: آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔آپ نے ان کے لئے دعا کی۔ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَهَا فَقَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا فَأَجَابَهَا مِثْلَهَا فَقَالَتْ ادْعُ اللهَ انہوں نے جیسے پہلے پوچھا تھا آپ سے پوچھا۔آپ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ أَنْتِ مِنَ نے ان کو ویسا ہی جواب دیا (جیسا کہ پہلے دیا تھا۔) الْأَوَّلِيْنَ فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ حضرت ام حرام نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ابْنِ الصَّامِتِ غَازِيًا أَوَّلَ مَا رَكِبَ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔آپ نے فرمایا تم تو ان پہلوں میں سے ہو۔چنانچہ وہ اپنے خاوند عبادہ بن صامت الْمُسْلِمُوْنَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ فَلَمَّا کے ساتھ نکلیں جبکہ وہ جنگ کیلئے اس وقت نکلے جب انْصَرَفُوْا مِنْ غَزْوَتِهِمْ قَافِلِيْنَ فَتَزَلُوا مسلمانوں نے حضرت معاویہ کے ساتھ پہلے پہل بحری الشَّامَ فَقُرَبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا سفر اختیار کیا۔جب وہ اس جنگ سے واپس لوٹے اور فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ۔آپ دوبارہ سو گئے۔پھر اسی طرح ہنستے ہوئے جاگے۔شام میں اُترے تو حضرت ام حرام کے پاس ایک سواری لائی گئی کہ وہ اس پر سوار ہوں۔(جب سوار ہونے لگیں) تو اس نے ان کو گرا دیا اور وہ فوت ہو گئیں۔اطراف الحدیث ۲۷۹۹ ۲۷۸۸ ،۲۸۷۷، ۲۸۹٤، ۶۲۸۲، ۷۰۰۱ اطراف الحدیث ۲۸۰۰: ۲۷۸۹، ۲۸۷۸، ۲۸۹۵، ۲۹۲٤، ۶۲۸۳، ۷۰۰۲ تشریح: فَضْلُ مَنْ يُصْرَعُ فِي سَبِيْلِ اللهِ فَمَاتَ فَهُوَ مِنْهُمْ : شہید صرف وہی نہیں جو دینی جنگ میں لڑتا ہوا مارا جائے بلکہ وہ بھی ہے جو جنگ کیلئے نکلا ہو اور کسی حادثہ یا طبعی موت سے فوت ہو جائے۔جس آیت کا عنوانِ باب میں حوالہ دیا گیا ہے، وہ یہ ہے: وَمَنْ يُهَاجِرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً ۖ وَمَنْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكُهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۖ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء : (١٠) اور جو شخص بھی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ ملک میں حفاظت کی بہت سی جگہیں اور فراخی کے سامان پائے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی طرف اپنے گھر سے ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آجائے تو سمجھو کہ اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہو چکا اور اللہ بہت ہی بخشنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے۔یہ آیت جہاد فی سبیل اللہ کے سیاق میں وارد ہوئی ہے اور لفظ خروج میدانِ جہاد میں نکلنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔دیکھئے سورۃ انفال آیت ۴۸، سوره تو به آیات ۴۱ تا ۴۷۔