صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 158
صحيح البخاری جلده = ۱۵۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ۔۔۔: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی خواہش تھی کہ اللہ کی راہ میں آپ کو شہادت نصیب ہو۔اس پر شارحین نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ جب آپ کے متعلق آیت وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: ۶۸) میں وعدہ تھا کہ آپ لوگوں کے ہاتھوں قتل سے محفوظ رہیں گے تو آپ نے شہادت کی خواہش کیوں کی ؟ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۲) اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ کسی نیک بات کی تمنا رکھنا اور بات ہے اور اس کا پورا ہونا حالات سے تعلق رکھتا ہے جن کا انحصار خالق مسبب الاسباب کی مشیت پر ہے۔اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد فی سبیل اللہ میں جس قدر تکالیف اُٹھائی ہیں، ان میں سے ہر ایک تکلیف در حقیقت جام شہادت کی حیثیت رکھتی تھی۔بَاب : فَضْلُ مَنْ يُصْرَعُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَمَاتَ فَهُوَ مِنْهُمْ اس شخص کی فضیلت جو اللہ کی راہ میں (جہاد کے وقت ) سواری سے گر کر مر جائے ایسا شخص بھی شہیدوں میں ہی شمار ہوگا وَقَوْلُ اللهِ عَزوَجَلَّ : وَمَنْ يَخْرُجُ اور اللہ عزوجل کا فرمانا: جو اپنے گھر سے اللہ اور اس مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا اِلَى الله کے رسول کے لئے ہجرت کرتے ہوئے نکلے اور وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكُهُ الْمَوْتُ فَقَدْ پھر وہ مر جائے تو اس کا اجر اللہ پر ہو چکا۔وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ (النساء: ۱۰۱) وَقَعَ وَجَبَ۔وقع کے معنی ہیں ضروری ہو گیا، واجب ہو گیا۔۲۷۹۹ - ۲۸۰۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ :۲۷۹۹ - ۲۸۰۰ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان ابْنُ يُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنَا کیا۔انہوں نے کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا کہ سیکی يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْن يَحْيَى بن بن سعید انصاری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن سجی حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ عَنْ خَالَتِهِ بن حبان سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک سے، سے روایت کی کہتی تھیں کہ نبی ﷺ ایک روز میرے أم حَرَامِ بِنْتِ مِلْحَانَ قَالَتْ نَامَ حضرت انس نے اپنی خالہ حضرت ام حرام بنت ملحان النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا یہاں ہی سو گئے۔پھر آپ مسکراتے ہوئے جاگ قَرِيْبًا مِّنِي ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ فَقُلْتُ پڑے۔میں نے پوچھا: آپ کس بات سے ہنسے ہیں؟ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ أُنَاسٌ مِّنْ أُمَّتِي آپ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ میرے