صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 51
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۱ ۳۴- كتاب البيوع کتاب التفسیر، باب ۵۳ روایت نمبر ۴۴ ۴۵ میں مفصل مذکور ہے۔اس روایت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ محولہ بالا آیت ذَرُوا مَا بَقِي نزول میں آخری ہے۔ایسا نہیں بلکہ سورہ بقرہ کا آخری حصہ مراد ہے۔جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت اس بارہ میں گذر چکی ہے کہ یہ آیتیں لین دین اور سود سے متعلق ہیں۔دیکھئے روایت نمبر ۲۰۸۴۔اس لئے دونوں روایتوں میں تضاد نہیں۔اس نزول سے مراد تطبیق آیات بھی ہو سکتی ہے، جیسا کتاب التفسیر میں مفصل بتایا جائے گا۔الربا کے لغوی معنے بڑھوتی اور زیادتی کے ہیں (لسان العرب - دبو ) اور اصطلاحی مفہوم کی رُو سے وہ زیادتی مراد ہے جو قرضہ کی صورت میں اصل مال پر معین شرح سے مقررہ مدت پر لی دی جاتی ہے۔جس میں یہ صورت نہ ہو وہ رہا نہیں۔لفظ ربا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اتنا مشہور اور متعارف و متداول تھا کہ یہ لفظ اپنی شہرت کی وجہ سے کسی خاص تعریف و شرح کا محتاج نہ تھا۔باب ٢٦ يَمْحَقُ الله الرّبُوا وَيُرْبِي الصَّدَقْتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَارٍ أَثِيْهِ اللہ تعالیٰ سود کو مٹائے گا اور صدقات کو بڑھائے گا اور اللہ تعالیٰ کا فراور گنہگار کو پسند نہیں کرتا (البقرة : ۲۷۷) ۲۰۸۷: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ : ۲۰۸ سحي بن بکیر نے ہمیں بتایا کہ لیث نے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے یونس سے، یونس نے شِهَابٍ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: إِنَّ أَبَا ابن شہاب سے روایت کی کہ (سعید ) ابن مسیب هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے يَقُولُ: الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ تھے کہ جھوٹی قسم مال کا نکاس تو بڑھا دیتی ہے مگر لِلْبَرَكَةِ۔برکت مٹادیتی ہے۔تشریح: اور مٹادیا اور يَمْحَقُ الله الربوا کے معنی ہوں گے: اللہ تعالیٰ سود کی غرض و غایت اور فائدہ کو مٹا دیتا ہے۔اسی طرح مَحَقَ اللهُ الشَّيْءَ کے معنے ہیں : نَقَصَهُ وَذَهَبَ بِبَرَكَتِهِ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے چیز کو گھٹایا اور اُسے بے برکت بنادیا۔اسی سے لفظ مُحَاقٍ ہے، جس سے مراد قمری مہینے کی آخری راتیں ہیں، جب چاند نظر نہیں آتا۔گردش کی وجہ سے چاند کی روشنی گھٹتے گھٹتے آخر تاریکی چھا جاتی ہے۔یہی مفہوم لفظ محق اور مِحَاق میں پایا جاتا ہے۔اس کے معنے ہیں: اضمحلال یعنی تدریجا زوال پذیر ہونا۔(اقرب الموارد-محق) ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۳۹۹) يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبوا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ : مَحَقَ کے معنے ہیں: انْطَلَهُ وَمَحَاهُ یعنی باطل کر دیا :