صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 50
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۰ ۳۴- كتاب البيوع وَنَهَى عَنِ الْوَاشِمَةِ وَالْمَوْشُوْمَةِ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے کتے کی قیمت اور خون وَآكِلِ الرِّبَا وَمُوْ كِلِهِ وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ کی قیمت لینے سے منع کیا ہے اور گودنے والی گدوانے والی سے بھی منع کیا اور سود خور اور سود کھلانے والے اطرافه: ٢٢٣٨، ٥٣٤٧، ٥٩٤٥، ٥٩٦٢ سے متعلق منع فرمایا ہے اور مصور پر لعنت کی ہے۔ تشريح : مُؤكِلُ الرِّبَا : عنوان باب میں سو کھلانے والے کا ذکر ہے، عنوان باب میں سود کھلانے والے کا ذکر ہے، جس کے تعلق میں روایت نمبر ۲۰۸۶ نقل کی گئی ہے۔ مگر عنوان باب کا تعلق جو محولہ بالا آیت سے ہے۔ اس میں شارحین کو مشکل پیش آئی ہے۔ جس کا بعض نے یہ جواب دیا ہے کہ اشتراک فعل کی وجہ سے سود کھلانے والا بھی سود لینے والے کے ساتھ متعلقہ انذار میں برابر کا شریک ہے۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۲۰۱) اگر وہ سود پر روپیہ نہ لیتا تو سود خور کا وجود بھی دنیا میں نہ ہوتا۔ امام بخاری کا محولہ بالا آیت سے استدلال اس بناء پر معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ارشاد باری تعالیٰ یہ ہے کہ تقویٰ سے کام لے کر سود کا باقی ماندہ روپیہ چھوڑ دیا جائے ۔ کیونکہ مشیت الہی یہ ہے کہ صدقات کے ذریعے غرباء کی امداد ہو؛ تا کہ وہ قوم میں کارآمد وجود نہیں ۔ چنانچہ یہاں بھی سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۷۸ میں زکوۃ کے حکم کا اعادہ کا وۃ کے حکم کا اعادہ کیا گیا ہے اور آیت نمبر ۷ ۲۷ میں فرماتا ہے: وَيُرْبِي الصَّدَقتِ ۔ یعنی صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں جہاں بھی سود کا ذکر ہے، وہاں صدقہ و زکوۃ کے حکم کا ذکر کیا ہے۔ قرآن مجید میں سات جگہ سود کی حرمت کا ذکر وارد ہوا ہے اور ہر جگہ یہی طریق اختیار کیا گیا ہے کہ اس کے پہلے یا بعد زکوۃ و صدقات اور اُس کی برکات کا ذکر ہے۔ تین آیتوں کا حوالہ تو تشریح ابواب میں درج ہے۔ باقی کے لئے دیکھئے سورۃ البقرۃ:۲۷۶، سورۃ آل عمران: ۱۳۱، سورۃ النساء:۱۶۲، سورۃ الروم : ۴۰۔ اس التزام سے ظاہر ہے کہ سود اسلامی معاشرے کے تقاضوں کی ضد ہے کیونکہ اس معاشرے کی بنیا د ایثار اور روح تعاون پر رکھی گئی ہے۔ اسلامی معاشرہ میں سودی کاروبار کے لئے ۔ جو خود غرضی پر مبنی ہے۔ کوئی جگہ نہیں ۔ چنانچہ سورة آل عمران کی جس آیت کا سابقہ باب ( نمبر ۲۳) میں حوالہ دیا گیا ہے یعنی لَا تَأْكُلُوا الرِّبوا أَضْعَافًا مُّضْعَفَةً۔ اس کے بعد فرمایا ہے: وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (آل عمران : ۱۳۳ ۱۳۴) یہی رحمت و شفقت کا وہ ماحول ہے جو سود کے منافی ہے اور اسی وجہ سے سود لینے والا ، سو دکھلانے والا ، سود لکھنے والا اور اس کی شہادت دینے والا ایک ہی فہرست میں شامل اور اسلامی معاشرے سے خارج کئے گئے ہیں۔ یہی مراد لعنت سے ہے۔ لعنت کے معنی رحمت سے دور رکھنا ۔ (لسان العرب - لعن) اور یہ لفظ بیزاری، نفرت اور لا تعلقی کے اظہار کے لئے بولا جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مذکورہ بالا لعنت سے یہی یہ سے یہی بیزاری اور لا تعلقی ہے۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ آخِرُ آيَةٍ: عنوانِ باب میں ایک حوالہ حضرت ابن عباس کے قول کا ہے جو