صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 684
صحيح البخاری جلد ۴ م ۶۸ ۱ ۵ - كتاب الهبة ابْنَ أَسْلَمَ فَقَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : مالک سے سنا؛ وہ زید بن اسلم سے پوچھ رہے تھے۔ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَمَلْتُ عَلَی زید نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: فَرَسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک گھوڑا اللہ فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی راہ میں سواری کے لئے دیا۔ پھر میں نے اس کو بکتا وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي ہوا دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صَدَقَتِكَ۔ اطرافه: ١٤٩٠، ۲٦٢٣، ۲۹۷۰، ۳۰۰۳ نے فرمایا: اسے نہ خرید و اور اپنے صدقہ سے نہ پلیٹو۔ تشريح : إِذَا حَمَلَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ فَهُوَ كَالْعُمْرَى وَالصَّدَقَةِ: اس خاتمہ سے ظاہر ہے treen کہ سابقہ ابواب زیر بحث مسئلہ کے متعلق ضمنی ہیں اور یہ امر سمجھانے کے لئے قائم کئے گئے ہیں کہ عمری از قبیل تملیک رقبہ ہے، اس میں رجوع نہیں ۔ عنوان باب میں گھوڑے کو سواری کے لئے دینے کا جو حوالہ دیا گیا ہے۔ وہ زیر باب ۳۰ روایت نمبر ۲۶۲۳ میں گزر چکی ہے۔ نیز دیکھئے کتاب الزکوۃ باب ۵۹ روایت نمبر ۱۴۹۰۔ حضرت عمرؓ نے گھوڑ ا بطور صدقہ دیا تھا اور وہ از قبیل تملیک رقبہ اور ایک قسم کا وقف فی سبیل اللہ تھا، جس میں رجوع جائز نہیں تھا۔ بعض فقہاء ہبہ اور وقف میں بھی رجوع کے قائل ہیں۔ امام ابن حجر کے نزدیک امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فقہاء کے مذہب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۰۳) وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَهُ أَنْ يُرْجِعَ فِيهَا : اس سے مراد احناف ہیں۔ ان کے نزدیک اگر گھوڑا سواری کے لئے بطور صدقہ یا ہبہ دیا جائے تو اس سے رجوع نہیں کہ وہ از تملیک رقبہ ہے۔ لیکن اگر وہ بطور وقف فی سبیل اللہ ہے یعنی جہاد کی غرض سے مخصوص کیا گیا ہو تو ایسے وقف سے ہبہ کرنے والا رجوع کر سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہ کے مذہب میں بعض مخصوص قسم کے اوقاف بھی قابل رجوع نہیں اور ان کے علاوہ باقی وقف اگر اغراض وقف پوری نہیں کرتے تو رجوع کیا جا سکتا ہے ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۱۹۰) جمہور کے نزدیک ہبہ عمری، وقف اور اسی طرح ہر ہر قسم قسم ۔ کے صدقہ سے رجوع جائز نہیں ہیں اور ! اسی مذہب کی تائید کے لئے اس باب میں حضرت عمرؓ کا واقعہ دہراتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس طرح یہ بحث ختم کی گئی ہے۔ حضرت عمر گھوڑا خریدنا چاہتے تھے کہ اس کی نگہداشت کما حقہ نہیں ہو رہی تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی۔