صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 683 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 683

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۸۳ ۱ ۵ - كتاب الهبة کرنے کے بعد اپنے آقا کی طرف لوٹیں گے۔مگر ہبہ یا عمری میں یہ صورت نہیں ہوتی۔فقہا ء نے عمری کے تعلق میں تملیک رقبہ اور تم ایک فائدہ کا سوال اُٹھایا ہے۔رقبہ کے معنی ہیں گردن یعنی غلام۔رقبہ کا اطلاق مجازا ہر اس شئے پر ہوتا ہے جس پر مالکانہ قبضہ ہو۔اسی سے الرقبی ہے۔زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ ایک شخص کسی کو مکان یا غلام استعمال کے لئے دیتا اور یہ شرط کرتا کہ اگر تو پہلے مرا تو یہ مجھے واپس کوئے گا اور اگر میں مرا تو تیرا ہوگا۔کہتے ہیں: وَرِثَ الْمَالَ عَنْ رَقَبَةٍ أَيْ عَنْ كَلَالَةٍ وَلَمْ يَرِثُهُ عَنْ آبَائِهِ۔یعنی اسے مال ورثہ میں جد کی وراثت سے نہیں ملا بلکہ بوجہ انقطاع نسلی وارث ملا ہے۔عمری میں عمر بھر کے لئے ایک شئے دی جاتی ہے۔دینے والے کی عمر تک یا جسے دیا جائے اس کی عمر تک۔لفظ اسگان سے جب تک قرینہ نہ ہو، مذکورہ بالا مفہوم پیدا نہیں ہوتا۔فقہاء نے عمر کی اور رقبی کے تعلق میں یہ بحث اُٹھائی ہے کہ آیا عمری اور رقبنی ہبہ کی صورت ہے کہ موہوب لۂ مکان وغیرہ کا مالک ہو جاتا ہے یاوہ از قبیل تملیک انتفاع واستفادہ ہے۔آیا عمری والا اسی طرح حق رکھتا ہے کہ لونڈی یا غلام کو فروخت یا آزاد کرے؛ جس طرح موہوب لۂ ہبہ کردہ لونڈی یا غلام کو فروخت یا آزاد کرنے کا حق رکھتا ہے۔فقہاء میں سے ایک فریق امام ابو حنیفہ وغیرہ کی رائے ہے کہ عمرکی و رقبی میں تملیک رقبہ کی صورت ہے اور وہ ایسا کر سکتا ہے۔امام مالک کے نزدیک تملیک منفعت ہے اور وہ گھر یا غلام نہ بیچ سکتا ہے نہ ہبہ کر سکتا ہے۔فقہاء کے نظریہ کا یہ وہ اختلاف ہے جس کے لئے عمرئی و رقبنی کے ابواب قائم کئے گئے ہیں اور زیر تشریح باب بھی اسی تعلق میں ہے اور اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ قرینہ صارفہ سے ہی مذکورہ بالا سوال کا جواب مل سکتا ہے۔قرائن میں سے ایک عرف عام بھی ہے، دیکھا جائے گا کہ جو الفاظ عرف عام میں تملیک رقبہ یا تملیک منفعت کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔ان سے مستعار صورت مراد لینا ہے یا ہبہ یا عمری کی صورت ، اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔(بداية المجتهد ، كتاب الهبات، القول في انواع الهبات، جزء ثانی صفحه ۲۴۸) وَأَعْطَوُهَا أَجَرَ سے مراد مصریوں کے عرف عام کے مطابق ہوگی کہ وہ بصورت ہدیہ تھی یا ہبہ۔الفاظ اخدام، اعطاء اور اشکان کا مفہوم قرینے سے متعین ہوگا۔قَالَ بَعْضُ النَّاس۔۔۔۔۔سے مراد احناف ہیں جنہوں نے ان الفاظ سے عاریتاً دینا مراد لیا ہے نہ کہ تملیک رقبہ۔جب چاہے وہ واپس لے سکتا ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحہ ۱۸۹) بَاب :۳۷: إِذَا حَمَلَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ فَهُوَ كَالْعُمْرَى وَالصَّدَقَةِ اگر کوئی شخص ( کسی کو ) سواری کے لئے گھوڑا دے تو یہ عمری اور صدقہ ہی کی طرح ہوگا وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيْهَا۔اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے واپس لینے کا بھی حق رکھتا ہے۔٢٦٣٦: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ أَخْبَرَنَا :۲۶۳۶ حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا يَسْأَلُ زَيْدَ (بن عیینہ) نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے کہا: میں نے