صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 43 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 43

صحيح البخاری جلد ۴ م ۳۴- كتاب البيوع تشریح: مَا قِيْلَ فِى اللَّحَامِ وَالْجَزَارِ : یہ باب بھی سابقہ باب کی طرح ضمنی ہے اور بطور فصل۔کیونکہ پیشوں کا ذکر باب نمبر ۲۸ سے شروع ہوتا ہے۔مندرجہ روایت میں ابہام اور عدم وضاحت کی ایک شکل ایسی بتائی گئی ہے جو موقع محل سے مناسبت رکھتی ہے۔یعنی پانچ اشخاص کا کھانا پکانے میں اگر کمی بیشی ہو تو ایسا اندازہ قابل اعتراض نہیں۔پانچ کا کھانا چھ کو بھی کافی ہوسکتا ہے اور یہ بیع وشراء نہیں۔اسی لئے بعض شارحین نے اس باب کو بطور فصل قرار دیا ہے۔یعنی سابقہ مضمون ختم ہے۔روایت نمبر ۲۰۸۱ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرت کے تمام پہلوؤں میں صاف گوئی کو پسند فرمایا ہے۔چنانچہ صاحب خانہ سے کہہ دیا کہ آپ نے پانچ کو مدعو کیا تھا اور یہ چھٹے صاحب بھی ہمارے ساتھ ہیں۔اگر اجازت ہو تو وہ بھی اس دعوت میں شریک ہو جائیں۔بَاب ۲۲ : مَا يَمْحَقُ الْكَذِبُ وَالْكِتْمَانُ فِي الْبَيْعِ خرید وفروخت میں کذب و اخفاء سے (برکت ) مٹ جاتی ہے ۲۰۸۲: حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ۲۰۸۲ : بدل بن محبر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ ہمیں بتایا۔قتادہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں أَبَا الْخَلِيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن نے ابوخلیل کو عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔انہوں نے حضرت حکیم بن حزام الْحَارِثِ عَنْ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ رضى اللہ عنہ سے، حضرت حکیم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: بائع اور مشتری کو وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَيْعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ (بح فسخ کرنے کا) اختیار ہے، جب تک وہ دونوں يَتَفَرَّقَا أَوْ قَالَ: حَتَّى يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔یا ( یہ ) فرمایا: وَبَيَّنَا بُوْرِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا اُس وقت تک کہ جدا ہو جائیں۔اگر اُن دونوں نے سچائی سے کام لیا اور صفائی سے بات کی تو اُن دونوں کو وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا۔خرید وفروخت کے سودے میں برکت دی جائے گی اور اگر اُن دونوں نے اختفاء سے کام لیا اور جھوٹ بولا تو اُن دونوں کے سودے کی برکت مٹادی جائے گی۔اطرافه ،۲۰۷۹، ۲۱۰۸، ۲۱۱۰، ٢١١٤۔مَا يَمْحَقُ الْكَذِبُ وَالْكِتُمَانُ فِى الْبَيْع : اس باب کے تحت سلبی جہت سے بیع و شراء تشریح میں صاف گوئی کے مسائل بیان ہوئے ہیں اور بتایا گیاہے کہ دغاو فریب والی تجارت بے برکت ہوتی ہیں و ہے۔اعتماد جب ایک بار اٹھ جاتا ہے تو ساکھ جاتی رہتی ہے۔