صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 656 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 656

صحيح البخاری جلدم تشریح: ۶۵۶ ۱ ۵ - كتاب الهبة إِذَا وَهَبَ جَمَاعَةٌ لِقَوْمٍ: اس باپ کا تعلق بھی سابقہ مضمون سے ہے۔مشتر کہ جائیداد کے ہہ سے متعلق امام ابوحنیفہ کا مذہب جن الفاظ میں نقل کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر تقسیم شدہ مشترکہ اموال کا ہبہ جائز نہیں۔وفد ہوازن کے اموال غنیمت بصورت مشاع غیر تقسیم شدہ تھے اور وہ ہبہ کئے گئے۔(عمدۃ القاری جز ۱۳۶ صفحه ۱۶۴) احناف کے استدلال کا جو جواب دیا گیا ہے وہ تشریح باب ۲۳ میں دیکھئے۔کشمیبنی کے نسخہ صحیح بخاری میں معنونہ الفاظ یہ ہیں: أَوْ وَهَبَ رَجُلٌ جَمَاعَةً۔یا ایک شخص جماعت کو ہبہ کرے۔بعض شارحین کے نزدیک واقعہ ہوازن میں صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا اور پھر آپ نے وہ ہوازن کو ہبہ کر دیئے۔یہ توجیہہ تکلف ہے اور علامہ ابن حجر کے نزدیک باب ۲۴ میں یہ مسئلہ مد نظر ہی نہیں۔اس کا ذکر پہلے (زیر باب ۲) ہو چکا ہے۔اس لئے کشمیپنی میں مذکورہ بالا حصہ زائد ہے۔(فتح الباری جزء۵ صفحہ ۲۷۹) واقعہ ہوازن کے لئے کتاب الوكالة باب ۷ روایت نمبر ۲۳۰۷ - ۲۳۰۸ دیکھئے۔بَاب ٢٥ : مَنْ أَهْدِيَ لَهُ هَدِيَّةٌ وَعِنْدَهُ جُلَسَاؤُهُ فَهُوَ أَحَقُّ ہد یہ جسے دیا جائے اور اس کے پاس اس کے ہم نشین ہوں تو وہ اس ہدیہ کا زیادہ حقدار ہے وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جُلَسَاءَهُ اور حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ اس کے شُرَكَاءُهُ۔وَلَمْ يَصِحُ۔ہم نشین بھی شریک ہوں گے اور یہ روایت صحیح ثابت نہیں ہوتی۔٢٦٠٩ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا :۲۶۰۹ ( محمد ) بن مقاتل نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْن نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) شعبہ نے كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہمیں خبر دی۔انہوں نے سلمہ بن کھیل سے سلمہ نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ سے، حضرت ابو ہریرۃ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَخَذَ مِنَّا فَجَاءَ صَاحِبُهُ روایت کی کہ آپ نے ایک اونٹ قرض لیا تھا۔پھر يَتَقَاضَاهُ۔فَقَالُوْا لَهُ فَقَالَ : إِنَّ لِصَاحِبِ اُونٹ والا آپ کے پاس آیا، آپ سے تقاضا کرنے الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ قَضَاهُ أَفْضَلَ مِنْ سِنِهِ لگا۔صحابہ نے اس سے (سختی سے ) بات کی۔آپ نے فرمایا: حقدار کہا ہی کرتا ہے۔پھر آپ نے اسے اس کے اُونٹ کی عمر سے بڑھ کر عمر والا اونٹ دیا اور فرمایا: وَقَالَ: أَفْضَلُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً۔تم میں بہتر وہی ہیں جو قرضے کو خوبی سے ادا کریں۔اطرافه : ۲۳۰۵، ۲۳۰۶، ۲۳۹۰، ۲۳۹۲، ۲۳۹۳، ٢٤۰۱، ٢٦٠٩۔