صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 41
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۱ ۳۴- كتاب البيوع نقل کیا ہے۔ پوری حدیث کے یہ الفاظ ہیں : الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيْهِ عَيْبٌ إِلَّا بَيْنَهُ لَهُ یہ روایت مستند اور از قبیل حسن ہے۔ (فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۳۹۳) اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: مسلم مسلم کا بھائی ہے اور کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے ایسی بیچ کرے جس میں کسی قسم کا عیب ہو۔ ( یا جانتا ہو کہ اُس میں عیب ہے ۔ ) اس پر واجب ہے کہ اُسے صاف طور پر بتا دے ۔ مذکورہ بالا حوالہ نقل کرنے سے یہ بتانا مقصود ا ہے، اس ہے کہ ایسی بیع جس کا نقص ہے نقص بیان نہیں کیا گیا ، نا جائز اور قابل فسخ ہے۔ چنانچہ اس باب میں جو روایت نقل کی گئی ہے، میں یہ الفاظ نمایاں ہیں: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ۔ یعنی تاجر اور خریدار پیچ فسخ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں ۔ اسی طرح اگر دھوکا ثابت ہو تو ایسی بیچ قابل فسخ ہوگی، باہمی رضا مندی سے یا بذریعہ دارالقضاء کے ۔ غرض اس باب میں صحت عقد بیع و شراء کے بارے میں شریعت اسلامی کا اصل الاصول بیان کیا گیا ہے ۔ ہے۔ بَاب ۲۰ : بَيْعُ الْخِلْطِ مِنَ التَّمْرِ ملی جلی کھجوریں بیچنا ۲۰۸۰ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۲۰۸۰ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ہمیں بتایا ۔ انہوں نے کچی ( بن ابی کثیر ) سے بچی نے أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہمیں اکٹھی کھجوروں النَّمْرِ وَكُنَّا نَبِبَيْعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالی کار این دیا جاتا تھا اور مختلف قسم کی ملی جلی جو میں ہوتی تھیں اور ہم ایک صاع (اچھی کھجوروں ) کے النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا بدلے دو صاع وہ کھجور میں بیچتے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَاعَيْنِ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَم نے فرمایا: ایک صاع کے بدلے دو صاع اور ایک درہم کے بدلے دو درہم نہ لیا کرو۔ تشريح : بَيْعُ الْخِلْطِ مِنَ التَّمْرِ : لفظ سر عام ہے جو ہمت کی بھور پر طلاق پاتا ہے۔ مذکور الصدر نم اسلامی حکم کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملی جلی کھجور میں فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں مفصل جواب باب ۷۴ و باب ۸۹ میں دیکھئے۔ یہاں اس کا ذکر اختصار سے سابقہ باب کے تعلق میں کیا گیا ہے۔ ابن ماجه ، کتاب التجارات، باب من باع عيبا فليبينه) (مسند احمد بن حنبل، جزء۴ صفحہ ۱۵۸) (المستدرک حاكم، كتاب البيوع ، باب لا يحل لمسلم ان باع من أخيه بيعًا فيه عيب ان لا بينه له)