صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 621
صحيح البخاري - جلد ۴ ۶۲۱ ۱ ۵ - كتاب الهبة فِي وَجْهِهِ قَالَ : أَمَا إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ ان کے چہرہ پر اثر پایا تو آپ نے فرمایا: ہم نے تمہیں صرف اس لئے کو ٹا دیا ہے کہ ہم احرام میں ہیں۔ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ۔ اطرافه: ١٨٢٥، ٢٥٩٦ تشريح : إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُم: حضرت صعب بن جامہ کا واقعہ حضرت ابوقادرہ کے واقعہ سے الگ ہے۔ شارحین نے دونوں کے واقعات میں فرق نمایاں کیا ہے کہ اول الذکر نے آنحضرت ريم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر شکار کیا تھا۔ جبکہ آپ بحالت احرام تھے اور ثانی الذکر نے اپنے لیے، جبکہ وہ حالت احرام میں نہ تھے۔ حضرت صحب کے واقعہ سے متعلق روا ن روایت میں بڑا اختلاف ہوا ہے کہ آیا انہوں نے گوشت پیش کیا تھا یا ز یا تھا یا زندہ جانور امام بخاری کی تحقیق کی رو سے وہ زندہ جانور تھا۔ (دیکھئے کتاب جزاء الصيد باب (۶) یہ روایت باب ۱۷ میں بھی منقول ہے۔ گو آپ نے بوجہ احرام شکار قبول نہیں فرمایا اور عمداً معذرت کی کہ عدم قبولیت کا سبب حالت احرام ہے۔ اگر یہ بات مانع نہ ہوتی تو لے لیا جاتا۔ بَاب : قَبُولُ الْهَدِيَّةِ ہدیہ قبول کرنا ٢٥٧٤: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ ۲۵۷۴ : ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے بتایا۔ عبدہ ( بن مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ سلیمان) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام ( بن عروہ) أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ لوگ حضرت عائشہ کی باری میں اپنے ہدیئے بھیجنے عَائِشَةَ يَبْتَغُوْنَ بِهَا - أَوْ يَبْتَغُوْنَ بِذَلِكَ کو ترجیح دیتے تھے۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مَرْضَاةَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ کی خوشنودی چاہتے تھے۔ اطرافه ٢٥٨٠، ٢٥٨١، ٣٧٧٥۔ ٢٥٧٥ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۲۵۷۵ آدم ( بن ابی ایاس ) نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جعفر بن ایاس ۔ ربن ایاس نے ہمیں سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے