صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 620
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۲۰ ۱ ۵ - كتاب الهبة الْقَوْمُ فَلَغَبُوْا فَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا ایک خرگوش کو جھاڑی سے) نکالا۔ لوگ اس کے پیچھے فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا وَبَعَثَ دوڑے اور تھک گئے۔ میں نے اس کو جالیا اور اسے إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لے کر حضرت ابو طلحہ کے پاس آ گیا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کا پٹھر یا اس بِوَرِكِهَا أَوْ فَخِذَيْهَا قَالَ : فَخِذَيْهَا لَا کی راتیں بھجوائیں۔ (شعبہ - (شعبہ نے ) کہا : رانیں ہی بھیجی شَكٍّ فِيْهِ - فَقَبِلَهُ۔ قُلْتُ : وَأَكَلَ مِنْهُ؟ تھیں ۔ اس با ۔ اس میں شک نہیں۔ آپ نے اسے قبول کیا۔ قَالَ : وَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: قَبِلَهُ۔ (سلیمان کہتے تھے : ) میں نے پوچھا اور آپ نے اس اطرافه: ٥٤٨٩، ٥٥٣٥ میں سے کھایا بھی ۔ شعبہ نے کہا اور آپ نے اس میں سے کھایا۔ پھر انہوں نے کہا: آپ نے اس کو قبول کیا۔ تشریح: مر الظهران من الظہران کے عظیم سےمدینہ منور کی طرف جاتے ہوئے سولہ میل کے فاع فاصلے پر ہے۔ باب ٦ : قَبُوْلُ الْهَدِيَّةِ * ہدیہ قبول کرنا ( عمدة القاری جزء ۱۳ صفحه ۱۳۱) ٢٥٧٣: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: ۲۵۷۳ : اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کیا ۔ انہوں نے کہا: مجھے مالک نے بتایا۔ انہوں نے عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبداللہ بن رضي لله مَسْعُوْدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ عتبہ بن مسعود سے ، عبید اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس الصَّعْبِ بْنِ جَنَّامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ سے حضرت عبداللہ نے حضرت صعب بن جنامہ ھے أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا - وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ گورخر بطور تحفہ ہدیہ بھیجا اور آپ اُس وقت ابواء یا وڈان أَوْ بِوَدَّانَ - فَرَدَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى مَا مقام میں تھے ، آپ نے واپس کر دیا مگر جب آپ نے حمله ابوذر کے نسخہ کے مطابق عنوان باب ۷۶ قُبُولُ الْهَدِيَّةِ" مکرر مذکور ہے۔ جبکہ ان کے علاوہ دیگر نسخوں میں یہاں باب نہیں ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ (۲۵)