صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 618 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 618

صحيح البخاری جلد ۴ ٦١٨ ۱ ۵ - كتاب الهبة فَأَكَلَهَا حَتَّى نَفْدَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ۔ میں نے کہا: ہاں، اور میں نے وہ اگلی ران آپ کو فَحَدَّثَنِي بِهِ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ دے دی۔ آپ نے اسے کھایا یہاں تک کہ اسے ختم يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى کر دیا، حالانکہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔ یہ روایت زید بن اسلم نے مجھ سے بیان کی۔ انہوں نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ عطاء بن بیسار سے، عطاء نے ابو قتادہ سے، انہوں نے صا الله علیہ نبی ﷺ سے اسے نقل کیا۔ اطرافه: ۱۸۲۱ ، ۱۸۲۲ ، ۱۸۲۳، ۱۸۲۴ ، ٢٨٥٤، ٢٩١٤، ٤١٤٩، 5406، 5407، 5490، ٥٤٩١، ٥٤٩٢۔ تشريح : مَنِ اسْتَوهَبَ مِنْ أَصْحَابِهِ شَيْئًا : عنوانِ باب کا مقصد واضح کرنے کے لئے حضرت ابو سعید (خدری) کی روایت کا حوالہ دیا ہے۔ اس روایت کے لیے و لیے دیکھئے کتاب الإجارة باب ۶ اروایت نمبر ۲۲۷۶۔ اس کے علاوہ اس باب کے تحت دو روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ یہ باب بھی سابقہ باب کے مضمون ہی سے متعلق ہے۔ روایت نمبر ۰ ۲۵۷ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حصہ طلب فرمایا، تا صحابہ کرام کے دلوں سے احساس مٹ جائے کہ ان سے کوئی ناجائز فعل صادر ہوا ہے اور تینوں واقعات سے ظاہر ہے کہ جہاں اخوت و مساوات کی روح کارفرما ہو؛ وہاں بے تکلفی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ تعلقات محبت میں تکلفات اٹھ جاتے ہیں ۔ بَاب ٤ : مَنِ اسْتَسْقَى جس نے پینے کی چیز مانگی وَقَالَ سَهْلٌ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اور حضرت سہل نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْقِنِي۔ سے فرمایا: مجھے پانی پلاؤ۔ ٢٥٧١: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ۲۵۷۱ مجھ سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، (کہا: ) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي سليمان بن بلال نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے أَبُو طُوَالَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ کہا: ابو طوالہ نے مجھے بتایا۔ ان کا نام عبداللہ بن الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا له يَقُولُ عبد الرحمن ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس أَتَانَا رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ فِي دَارِنَا هَذِهِ ہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رضي عنه۔ سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم