صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 618
صحيح البخاری جلدم ه ۶۱۸ ۱ ۵ - كتاب الهبة فَأَكَلَهَا حَتَّى نَفْدَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ میں نے کہا: ہاں، اور میں نے وہ انگلی ران آپ کو فَحَدَّثَنِي بِهِ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْن دے دی۔آپ نے اسے کھایا یہاں تک کہ اسے ختم يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَن النَّبِيِّ صَلَّى كر ديا، حالانکہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔یہ روایت زید بن اسلم نے مجھ سے بیان کی۔انہوں نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔عطاء بن یسار سے ، عطاء نے ابو قتادہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے اسے نقل کیا۔اطرافه: ۱۸۲۱، ۱۸۲۲، ۱۸۲۳، ۱۸۲٤ ، ۲۸٥٤، ۲۹۱٤، ٤١٤۹، ٥٤٠٦، ٥٤٠٧، ٥٤٩١،٥٤٩٠ ٥٤٩٢۔تشریح: اسْتَوْهَبَ مِنْ أَصْحَابِهِ شَيْئًا : عنوانِ باب کا مقصد واضح کرنے کے لئے حضرت ابوسعید ( خدری) کی روایت کا حوالہ دیا ہے۔اس روایت کے لیے دیکھئے کتاب الإجارة باب ۶ اروایت نمبر ۲۲۷۶۔اس کے علاوہ اس باب کے تحت دو روایتیں نقل کی گئی ہیں۔یہ باب بھی سابقہ باب کے مضمون ہی سے متعلق ہے۔روایت نمبر۲۵۷۰ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حصہ طلب فرمایا، تا صحابہ کرام کے دلوں سے احساس مٹ جائے کہ ان سے کوئی ناجائز فعل صادر ہوا ہے اور تینوں واقعات سے ظاہر ہے کہ جہاں اخوت و مساوات کی رُوح کار فرما ہو؛ وہاں بے تکلفی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔تعلقات محبت میں تکلفات اٹھ جاتے ہیں۔بَاب ٤ : مَنِ اسْتَسْقَى جس نے پینے کی چیز مانگی وَقَالَ سَهْلٌ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اور حضرت سہل نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے پانی پلاؤ۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْقِنِي۔:٢٥٧١ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ :۲۵۷۱ مجھ سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، ( کہا : ) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي سليمان بن بلال نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے أَبُو طُوَالَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ کہا: ابوطوالہ نے مجھے بتایا۔ان کا نام عبداللہ بن الرَّحْمَن قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا له يَقُولُ عبد الرحمن ہے۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس أَتَانَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي دَارِنَا هَذِهِ ﷺ سے سنا۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے :