صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 603
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۰۳ ۵۰ - كتاب المكاتب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ الله نے آزاد کیا ہو حضرت عائشہ کہتی تھیں: پھر رسول اللہ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ ﷺ لوگوں میں (خطبہ کے لئے ) کھڑے ہوئے اور رِجَالٍ مِنْكُمْ يَشْتَرِطُوْنَ شُرُوطًا آپ نے الہ کی حمد بیان کی اور اس کی تعریف کی۔ پھر فرمایا: اما بعد تم میں سے بعض مردوں کو کیا ہو گیا ہے کہ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ فَأَيُّمَا شَرْطٍ وہ ایسی شرطیں کرتے ہیں جو کتاب الا کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں۔ كَانَ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ و شرط بھی کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے، اگر چہ سو وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ فَقَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ شرطیں ہی کیوں نہ ہوں ۔ اللہ کا حکم ہی زیادہ لائق ہے وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ (کہ اس پر عمل کیا جائے ) اور اللہ کی شرط ہی زیادہ مضبوط يَقُوْلُ أَحَدُهُمْ : أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَلِيَ ہے۔ تم میں سے بعض لوگوں کی کیسی حالت ہے کہ ان الْوَلَاءُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔ میں سے ایک کہتا ہے کہ فلاں کو آزاد کر دو اور حق وراثت میرا ہو گا۔ حق وراثت تو اس کا ہو گا جو آزاد کرے۔ اطرافه: ٤٥٦ ، ١٤٩٣، ٢١٥٥ ، ٢١٦٨، ٢٥٣٦ ، ٢٥٦٠، ٢٥٦١، ٢٥٦٤، ٢٥٦٥، ،٥٢، ٥٢٨٤۷۹ ،۵۰۹۷ ،۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲۶ ،۲۷۱۷ ،٢٥٧٨ ٥٤٣٠، ٦٧١٧، ٦٧٥١، ٦٧٥٤ ، ٦٧٥٨ ، ٦٧٦٠ 11 تشريح : اِسْتِعَانَةُ الْمُكَاتَبِ وَسُؤَالُ النَّاسَ : ابدا رحمة اللہ علی کی رسم روایات میں ایک روایت کی بن ابی کثیر کی ۔ کثیر کی ہے کہ آیت إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا میں خیر سے صنعت و حرفت کا علم مراد ہے۔ یعنی غلاموں کو ایسی حالت میں آزاد نہ کرو کہ وہ لوگوں پر بارہوں۔ یہ روایت مرسل ہے۔ (المراسيل لأبی داؤد، باب في المفلس، جزء اول صفحه (۱۷۰) آیت مذکورہ بالا سے بعض فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ ایسے غلام جو اپنی صورت معاش پیدا نہیں کر سکتے ان کا آزاد کرنا مناسب نہیں کہ لوگوں سے مانگنے لگیں یا اور ناجائز ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہوں ۔ (عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحه (۱۲) ( بداية المجتهد ، كتاب الكتابة، القول في مسائل العقد، جزء ۲ صفحہ ۲۸۳) اس رائے کے پیش نظر مذکورہ بالا عنوان قائم کر کے استعانت اور سوال کی دو صورتیں نمایاں کی گئی ہیں اور ان دونوں میں کہا گیا ہے : بھیک مانگنا بے شک منع ہے مگر استعانت ممنوع نہیں ، جیسا کہ بریرہ نے اپنی آزادی کے لئے حضرت عائشہ مالی مدد طلب کی اور وہ کی گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم تھا تھا بلکہ آپ نے اجازت دی اور بریرہ کی سے ۔ آزادی میں مالکوں نے جو روک پیدا کرنی چاہی آپ نے اسے نا پسند فرمایا۔ اس لئے نہ مشار الیہ روایت صحیح ہے اور نہ فقہاء کا مذکورہ بالا استنباط ۔