صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 599
البخاری جلدم ۵۹۹ ۰ ۵- كتاب المكاتب معاشرہ کے لئے مضر ہوں گے۔اول الذکر بر کار ہو کر بھیک مانگے گا اور غیر دیانت دار چوری وغیرہ ناجائز ذرائع سے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگا۔اسی لئے ایسے غلاموں کی آزادی مذکورہ بالا شرائط سے مقید کی گئی ہے۔لیکن جو غلام مکاتبت کا طالب ہے اگر کسب حلال پر قدرت رکھنے والا اور امین ہو تو اس کے حق میں امام شافعی کے نزدیک سکا تہوا کی تعمیل واجب ہوگی جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارہ میں فیصلہ فرمایا۔آقا کے انکار پر حکومت وقت دخل دے گی اور ارشاد باری تعالیٰ اتُوهُمُ مِنْ مَّالِ اللهِ الَّذِى الكُمُ بھی اسی وجوب کی مزید تاکید کرتا ہے۔اس ارشاد کے مخاطب جیسا کہ دولت مند ہیں؛ ارباب حکومت زکوۃ بھی ہیں۔اتُوهُمُ مِنْ مَّالِ اللهِ الَّذِى الكُمُ کے وجوب یا عدم وجوب کی نسبت بھی فقہا ء نے اختلاف کیا ہے۔امام شافعی کے نزدیک یہ حکم واجب العمل ہے اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک مندوب ومستحب۔صیل کیلئے دیکھئے فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۲۹ تا ۲۳۱- عمدۃ القاری جز ی۱۳ صفحه ۱۱۸،۱۱۷ـ بداية المجتهد، كتاب الكتابة، القول في مسائل العقد القول في المكاتب، جزء ثانی صفحه ۲۸۴،۲۸۳۔بَاب ۲ : مَا يَجُوْزُ مِنْ شُرُوْطِ الْمُكَاتَبِ وَمَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مکاتب سے جو شرطیں جائز ہیں ان کا بیان اور جس نے کوئی ایسی شرط کی ہو جو کتاب اللہ میں نہیں فِيْهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اس بارے میں حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔سے روایت کی۔٢٥٦١ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۲۵۶۱: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ نے ہمیں عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيْرَةَ سے روایت کی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن کو جَاءَتْ تَسْتَعِيْنُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ بتایا کہ بریره آئیں اور ان سے اپنی مکاتبت کے لئے مدد تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا قَالَتْ مانگی اور انہوں نے ابھی تک اپنی مکاتبت سے کچھ بھی لَهَا عَائِشَةُ : ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ ادا نہیں کیا تھا۔حضرت عائشہؓ نے ان سے کہا کہ اپنے أَحَبُّوْا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ مالکوں کے پاس لوٹ جاؤ، اگر وہ پسند کریں تو میں وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ تمہاری طرف سے مکاتبت ادا کر دوں اور تمہاری ذَلِكَ بَرِيْرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا : إِنْ وراثت کا حق میرا ہوگا، تو میں ادا کئے دیتی ہوں۔بریرہ