صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 598 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 598

البخاري - جلدم ۵۹۸ ۵۰ - كتاب المكاتب تشریح: الْمُكَاتَبُ وَنُجُومُهُ فِى كُلّ سَنَةٍ نَّجُمٌ : امام بخاری نے اس باب میں مکاتبت سے متعلق کئی حوالے نقل کئے ہیں۔جن میں سورہ نور کی آیت بھی ہے۔اس باب کے تحت بھی کوئی روایت درج نہیں کی ؛ صرف حوالہ جات پر اکتفاء کیا گیا ہے اور جو روایت ان کے بعد درج ہے وہ واو عاطفہ سے معطوف کر کے عنوانِ باب ہی سے وابستہ کی گئی ہے۔اس سے بھی وجوب آزادی کا مسئلہ مستنبط ہوتا ہے۔یہ روایت کتاب الصلاة (باب۷۰ روایت نمبر ۶ ۴۵ ) میں گزر چکی ہے۔اس میں اختصار ہے اور یہاں تفصیل کہ پانچ اوقیہ چاندی کی ادائیگی بطور معاوضہ آزادی قرار پائی تھی جو پانچ سال میں بالاقساط ادا ہوئی تھی۔فَكَاتِبُوهُمُ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا : حوالہ جات مندرجہ باب پر نظر غائر ڈالنے سے ظاہر ہے کہ اس میں ان سہولتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو غلاموں کی آزادی کے تعلق میں شریعت اسلامیہ نے عطا کی ہیں۔ان میں سے اول یہی حکم ہے جو بصورت وجوب محولہ بالا آیت میں وارد ہوا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ فَكَاتِبُوهُم میں كَاتِبُوا صیغہ امر ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ داؤد ظاہری، امام ابن حزم اور محمد بن جریر کا مذہب ہے۔جمہور کے نزدیک یہ حکم مستحب ہے۔عنوان باب کے حوالے جو عطاء بن ابی ربائی، سیرین ، حضرت عمرؓ اور حضرت عائشہ وغیرہ سے منقول ہیں۔وہ بھی وجوب ہی پر دلالت کرتے ہیں۔غرض مذکورہ بالا ارشاد باری تعالیٰ بنیادی امر ہے جس سے غلاموں کی آزادی کا دروازہ کھولا گیا ہے کہ وہ بذریعہ مکاتبت اپنی آزادی کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور مالک کا انکار قابل قبول نہیں۔دوسرا امر جو اس غرض کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے وہ بالاقساط رقم کی ادائیگی ہے۔سہولت سے متعلق تیسرا امر غلام کی مالی امداد ہے۔اگر مالک نقد لینے پر ہی مصر ہو تو نقد ادا کی جائے۔جیسا کہ حضرت عائشہؓ نے بریرہ کی مالی مدد فرمائی اور یہ مالی امدا وصیغہ زکوۃ سے بھی دی جاسکتی ہے۔مکاتبت سے متعلق عدم وجوب کے بارے میں جمہور کی بڑی دلیل یہ ہے کہ اس امر پر فقہاء کا اجماع ہے کہ کوئی مالک اپنی ملکیت کے بارے میں مجبور نہیں کیا جاسکتا اور قرآن مجید کا ارشاد إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا جملہ شرطیہ ہے جس میں مالک کو حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ مکاتبت کا مطالبہ کرنے والے لونڈی یا غلام میں بھلائی دیکھے تو مکاتبت کی درخواست قبول کرے۔لیکن خیر کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر غلام کمانے کے قابل ہو اور وہ مالک کو مطلوبہ رقم دے سکے تو مالک کو اس کی درخواست قبول کر لینی چاہیے۔ان معنوں کی رو سے غلام اگر یقین دلاتا ہو کہ وہ مطلوبہ رقم ادا کر سکتا ہے تو پھر مالک کو انکار کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔یہی صورت سیرین کی مکاتبت کے بارے میں پیش آئی۔وہ حضرت انس کے غلام تھے اور انہوں نے مکاتبت کا مطالبہ کیا۔حضرت انس نے ان سے ہیں ہزار دراہم طلب کئے اور ان کی ادائیگی کا سیرین نے یقین دلا یا مگر وہ نہ مانے اور آخر خلیفہ وقت حضرت عمر نے اُن کو مجبور کیا ہے یہ واقعہ بھی قائمین وجوب مکاتبت کی تائید کرتا ہے۔اسی طرح بریرہ کا مشہور واقعہ بھی ہے کہ اُن کے مالکوں کا عذر در خور اعتنا نہیں سمجھا گیا۔امام شافعی نے آیت إِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا میں خیر کے معنی مال کی قدرت اور دیانتداری کئے ہیں کیونکہ دونوں صفتیں غلام میں ہوں تو مالک کو رقم مقررہ کی ادائیگی کا یقین ہوسکتا ہے۔جو کمانے کی قدرت نہیں رکھتا یا جو امین نہیں، وہ ادا نہیں کرے گا بلکہ ایسے غلام اور لونڈی آزاد ہوکر حمد (السنن الكبرى للبيهقي، كتاب المكاتب، باب تعجيل الكتابة، جزء اصفر ۳۳۴)