صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 593
صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۹۳ ۴۹ - كتاب العتق بَاب ۲۰ : إِذَا ضَرَبَ الْعَبْدَ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ اگر کوئی غلام یا لونڈی) کو مارے تو چاہیے کہ اس کے منہ پر مارنے سے اجتناب کرے ٢٥٥٩: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ۲۵۵۹ محمد بن عبید اللہ نے مجھے بتایا۔ (عبداللہ ) عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبِ قَالَ: ابن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک بن انس حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ۔ نے مجھ سے بیان کیا۔ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ فُلَانٍ عَنْ سَعِيدٍ اور ابن وہب نے) کہا: مجھے فلاں کے بیٹے الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (ابن سمعان ) نے بھی بتایا کہ سعید مقبری سے روایت رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے ۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ وَسَلَّمَ۔ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ وَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا (دوسری سند ) عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے بھی مجھ سے عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ بتایا ۔ انہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابو ہریرہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رضی اللہ عنہ سے حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ۔ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی سزا دے تو چاہیے کہ منہ پر مارنے سے اجتناب کرے۔ نے رواج تھا تشريح : إِذَا ضَرَبَ الْعَبْدَ فَلْيَجْتَبِ الْوَجْةَ : غلام لونڈیوں کوان کے طور پر پینے کا ام روان اور اس میں بڑی بڑی سختی کی جاتی تھی۔ اب بھی آقا اپنے خادم پر مار : پیٹ میں بڑی بڑی سختی کرتے ہیں جو بعض وقت انتہائی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ منہ پر مارنے کا یہ مطلہ ۔ منہ پر مارنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مارنے کی تو اجازت - اجازت ہے صرف منہ پر مارنے کی اجازت نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ مجبوری سے اگر مارنا ہی پڑے تو پھر منہ پر نہیں مارنا چاہیے۔ روایت زیر باب دوسندوں سے مروی ہے۔ ایک سند سعید مقبری کے باپ سے اور دوسری ہمام سے، اور اس میں غلام کو مارنے کا ذکر نہیں، بلکہ یہ الفاظ ہیں: إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ۔ جه۔ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت عام ہے کہ لڑائی میں چہرے پر نہ مارا جائے ۔ شارحین کا خیال ہے کہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس سے مسئلہ معنونہ مستنبط کیا ہے کہ