صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 592
صحيح البخاری جلدم ۵۹۲ ۴۹ - كتاب العتق سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بن عبد اللہ نے (اپنے باپ ) حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: كُلُّكُمْ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔آپ فرماتے تھے تم میں سے ہر ایک پاسبان ہے اور اس کو اس کی رعیت کے رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالْإِمَامُ رَاعٍ بارے میں پوچھا جائے گا۔امام بھی ایک پاسبان ہے وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ اور اس سے بھی اس کی رعیت کی بابت پرسش ہوگی اور رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ ہر مد بھی اپنے گھر والوں کا پاسبان ہے اور اس سے بھی فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ اس کے اہل وعیال کے متعلق پرسش ہوگی اور عورت عَنْ رَعِيَّتِهَا وَالْحَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ بھی اپنے خاوند کے گھر کی پاسبان ہے اور اس سے بھی اس کی رعیت (یعنی اہل وعیال) کی نسبت پرسش ہوگی رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ۖ قَالَ: اور نوکر بھی اپنے آقا کے مال کا پاسبان ہے اور اس سے فَسَمِعْتُ هَؤُلَاءِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ بھی اس کی ذمہ داری کے متعلق پرسش ہوگی۔(حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحْسِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عبد الله بن عمر) کہتے تھے: یہ (نام) تو میں نے نبی ہے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيْهِ سے سنے اور میرا خیال ہے نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا: رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔فَكُلُّكُمْ اور مرد بھی اپنے باپ کے مال کا پاسبان ہے اور اپنی رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔ذمہ داری کے متعلق اس سے بھی پرسش ہوگی۔اس الله لئے تم میں سے ہر ایک پاسبان ہے اور تم میں سے ہر ایک کو اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔اطرافه: ۸۹۳، ٢٤۰۹، ۲٥٥٤، ۲۷٥۱، ۵۱۸۸، ۵۲۰۰، ۷۱۳۸ الله عَ تشریح : الْعَبْدُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيّدِهِ وَ نَسَبَ النَّبِيُّ الله الْمَالَ إِلَى السَّيِّدِ: اس باب کا تعلق بھی سابقہ ابواب کے مضمون سے ہے جس کی وجہ سے روایت نمبر ۲۵۵۴ دہرائی گئی ہے اور عنوان باب میں بھی اس امر کی تصریح کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو آقا کی طرف منسوب کیا ہے اور اس کے غلام کو مال کا نگران قرار دیا ہے، سو ایک جہت سے وہ امیر ہے اور دوسری جہت سے مامور وعلی ہذا القیاس معاشرے کے تمام افراد مختلف حیثیتوں میں حاکم بھی ہیں اور محکوم بھی اور ایک دوسرے کے سامنے جوابدہ بھی۔