صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 591 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 591

صحيح البخاري - جلدم ۵۹۱ ۴۹ - كتاب العتق أَوْ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ۔ایک نوالہ یا دو نوالے یا فرمایا ایک لقمہ یا دو لقمے دیدے، کیونکہ اس نے اس کو اپنی نگرانی میں پکایا ہے۔طرفه: ٥٤٦٠۔تشریح : إِذَا أَتَى اَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ : باب ۱۵ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گزر چکا ہے کہ تمہارے غلام یا خادم تمہارے بھائی ہیں۔انہیں وہ کھانا کھلاؤ جوتم کھاتے ہو اور وہی کپڑا پہناؤ جو تم پہنتے ہو۔آیا یہ امر واجب ہے یا مندوب؟ اس تعلق میں یہ باب قائم کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۲۵۵۷ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر وہ کھاتے وقت خادم کو اپنے دستر خوان پر نہیں بٹھاتا تو اسے اس کھانے سے کچھ نہ کچھ دے کیونکہ اس نے اسے تیار کیا ہے۔یہ الفاظ فان لم يجلسه وجوب پر دلالت نہیں کرتے بلکہ اس میں ترغیب پائی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عنوان باب شرطیہ رکھ کر اس کا جواب محذوف کر دیا گیا ہے۔اس ضمن میں کتاب الاطعمه باب ۵۵ روایت نمبر ۵۴۶۰) بھی دیکھئے۔اس روایت میں لفظ خادم عام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں تلقین کی گئی ہے ، غلام ہو یا کوئی دوسرا اس سے حسن سلوک سے پیش آنا اخلاق پسندیدہ میں سے ہے۔اول تو خادم کو اپنے ساتھ بٹھانا چاہیے لیکن اگر کسی وجہ سے اسے اپنے ساتھ نہ بٹھا سکے تو چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے کچھ کھانا دیدے اور اس کی دل جوئی اور عزت افزائی کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے پیش نظر جن ممالک میں اسلامی تمدن کا غلبہ ہے وہاں اب تک یہی دستور ہے کہ کھانا تیار کرنے اور دستر خوان پر چننے کے بعد خدام بھی دستر خوان پر بیٹھ جاتے ہیں۔خصوصا عربی ، افغانی اور کشمیری قبائل میں اب تک یہی دستور ہے۔کھانے میں شریک ہوتے وقت ملازم اچھے خوش پوش ہوتے ہیں اور صفائی کا خاص خیال رکھتے ہیں، خصوصاً عام دعوتوں میں۔مذکورہ بالا حدیث میں بھی خادم اپنے آقا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔یہ نسبت اس اسلامی مساوات کے منافی نہیں جو اسلام معاشرے کے افراد میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔بَاب ۱۹ : الْعَبْدُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے وَنَسَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو آقا کی طرف الْمَالَ إِلَى السَّيِّدِ۔منسوب کیا۔٢٥٥٨ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۵۵۸ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي ہمیں بتایا۔زہری سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: سالم