صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 587
صحيح البخاری جلدم ۵۸۷ ۴۹ - كتاب العتق الْحَقِّ وَالنَّصِيْحَةِ وَالطَّاعَةِ أَجْرَانِ۔جو خیر خواہی اور فرمانبرداری اس کے ذمہ ہے اس کو ادا کرے تو اس کو دو ثواب ملیں گے۔اطرافه ۲٥٤٤،٩٧، ۲۰۱۷، ٣٠۱۱، ٣٤٤٦، ٥٠٨٣۔٢٥٥٢ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۵۵۲ محمد بن سلام ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں بتایا۔انہوں ابْنِ مُنَبِّةٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے ہمام بن منبہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ نبی عنہ سے روایت يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ أَطْعِمُ غلام سے یہ نہ غلام سے یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو کھانا کھلا اور اپنے رَبَّكَ وَضِيْ رَبَّكَ اسْقِ رَبَّكَ } رب کو وضو کرا { اور اپنے رب کو پانی پلا ) بلکہ یوں وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي مَوْلَايَ وَلَا يَقُلْ کہے: سیدی، مولائی یعنی میرے آقا۔اسی طرح تم أَحَدُكُمْ: عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ: فَتَايَ میں سے کوئی اپنے غلام کواے میرے غلام، اے میری لونڈی کہہ کر نہ پکارے بلکہ یہ کہے: اے نوجوان لڑکے وَفَتَاتِي وَغُلَامِي۔یا اے نوجوان لڑکی یا کہے: اے میرے بچے۔٢٥٥٣: حَدَّثَنِي أَبُو النُّعْمَانِ :۲۵۵۳ ابو نعمان نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر بن حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے اور اس کے پاس اتنا لَهُ مِنَ الْعَبْدِ فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ مال ہو جو اس کی قیمت کو پورا کرتا ہوتو غلام کی منصفانہ قِيْمَتَهُ قُومُ عَلَيْهِ قِيْمَةَ عَدْلٍ وَأُعْتِقَ مِنْ قیمت لگائی جائے اور پھر وہ قیمت (شریک کو) دے مَّالِهِ وَإِلَّا فَقَدْ أَعْتِقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ۔کر غلام کو آزاد کر دیا جائے ورنہ وہ اتنا تو آزاد ہو چکا جتنا اسے کر دیا گیا ہے۔اطرافه: ۲٤٩١ ، ۲۰۰۳، ۲۵۲۱، ۲۰۲۲، ٢٥۲۳، ٢٥٢٤، ٢٥٢٥۔٢٥٥٤: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۲۵۵۴ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ کسی (قطان) الفاظ اسقِ رَبَّكَ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ۲۱۹) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔