صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 585 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 585

صحيح البخاری جلدم ۵۸۵ ۴۹ - كتاب العتق Л نَعِمَّا لِأَحَدِهِمْ يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ نے فرمایا : ان غلاموں ) میں سے اس کے لئے کیا ہی اچھی بات ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کی خیر خواہی بھی کرتا رہے۔وينصحُ لِسَيّدِهِ۔تشریح : الْعَبْدُ إِذَا أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ سَيَدَهُ : جو شخص حقوق الله وحقوق العباد خیر و خوبی سے انجام دیتا ہو؛ وہ دوہرے ثواب کا مستحق ہے۔سلسلہ مجازات نسبتی شئے ہے۔اگر آقا عبادت الہی کے ساتھ خلق خدا کی خدمت بھی اعلیٰ صورت میں ادا کرتا ہو، بیتامی و مساکین کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں اپنے مال کو بے دریغ خرچ کرتا ہو اور بنی نوع انسان کی بہبود اور رفاہ عامہ کے کاموں میں اس کا وقت صرف ہوتا ہو تو ایسا آقا بھی اپنے نیک اعمال کی وجہ سے کئی گنا ثواب کا مستحق ہوگا۔مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ وہ مملوک جو مالک کی نسبت دو فرض منصبی ادا کرتا ہو، دوہرے ثواب کا مستحق ہوگا۔اسی قاعدہ مجازات کے مطابق کہ اگر مالک مملوک کی نسبت کئی گنا نیک اعمال بجالائے تو وہ بھی کئی گنا ثواب کا مستحق ہوگا۔چونکہ قانون مجازات نسبتی امر ہے، اس لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان باب شرطیہ قائم کر کے اس کا جواب حذف کر دیا ہے۔اس باب کے تحت چار روایتیں ہیں جو بلحاظ مضمون ایک دوسرے کی موید ہیں۔پہلی روایت میں خیر خواہ ، فرض شناس مملوک کا اور دوسری روایت میں آقا و مربی کے دوہرے اجر کا ذکر ہے۔تیسری روایت میں جہاد، حج ، خدمت والدہ کی افضلیت کا ذکر ضمنا کیا گیا ہے۔چوتھی روایت کے الفاظ نِعِمَّا لِأَحَدِهِمْ يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَيَنْصَحُ لِسَيِّدِهِ کے ہیں۔یعنی وہ خوش نصیب شخص ہے جو اپنے رب کی عبادت خوبی سے کرتا اور اپنے آقا کا خیر خواہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہر حاکم ومحکوم، راعی و رعیت کے لیے عام ہے۔تیسری روایت کے الفاظ لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْحَجَّ وَ بِرُّ اُمّی کے ہیں۔ازروئے تحقیق امام ابن حجر یہ الفاظ حضرت ابو ہریرہ کے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر مجھے جہاد، حج اور اپنی ماں کی خدمت کا خیال نہ ہوتا تو میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ک ارشاد مذکورہ بالا کے پیش نظر پسند کرتا کہ کسی مالک کا خادم بن کر اپنے رب کی عبادت اور مخدوم کی خدمت میں زندگی بسر کرتا۔یہ اجتہاد حضرت ابو ہریرہ کا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ نہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۱۷) چاروں روایتوں سے نفس مضمون واضح ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محولہ بالا ارشاد میں نواب کم و بیش ہونے کا مفہوم صرف نسبتی معنوں میں ہے۔بَاب :۱۷ : كَرَاهِيَةُ التَّطَاوُلِ عَلَى الرَّقِيقِ وَقَوْلِهِ عَبْدِي أَوْ أَمَتِي لونڈی غلام پر دست درازی کرنے اور انہیں غلام یا لونڈی کہہ کر پکارنے کی کراہیت کا بیان وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: وَالصَّلِحِينَ مِنْ اور اس بات کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ نے ( قرآن مجید میں ) عِبَادِكُمْ وَإِمَا بِكُمُ (النور:۳۳) وَقَالَ : فرمایا ہے: جو تمہارے غلام اور لونڈیوں میں سے نیک