صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 583
صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۸۳ ۴۹ - كتاب العتق افراد معاشرہ سے متعلق اسلام کی یہ بنیادی تو یہ بنیادی تعلیم ہے جس سے ظاہر ہے کہ شریعت اسلامیہ بان باہمی تعلقات کے لحاظ سے طبقاتی تقسیم و امتیازات کے سراسر خلاف ہے کہ سر خلاف ہے کہ ایک مالک فخور ہو اور دوسرا بندہ بے زبان۔ آیت کا آخری حصہ ان الق اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا اسی حالت مذمومہ کا ذکر کرتا ہے کہ یہ بات خالق بشر کو نا پسند ہے۔ لونڈی غلام کا درجہ آزاد ہونے کے بعد دیگر افراد خاندان کے ساتھ مساوات کا رہے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد شده غلام کو مولی یعنی دوست و مددگار کا نام دیا ہے اور لونڈی کے لئے پسند فرمایا ہے کہ آزاد کئے جانے کے بعد اس سے نکاح کر لیا جائے ۔ دونوں ابواب نمبر ۱۴، ۱۵ کا موضوع مذکورہ بالا آیت کے حوالہ سے واضح کیا گیا ہے اور روایت نمبر ۲۵۴۵ سے اسلامی معاشرہ کا نمونہ پیش کر کے بتایا ہے کہ صحابہ کر کے بتایا ہے کہ صحابہ کرام نے شریعت اسلامیہ کو عملی جامہ پہر ریعت اسلامیہ کو عملی جامہ پہنایا۔ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَعَلَى مُطَاعِهِمُ صَلَوَاةُ اللَّهِ صَلَوَاةٌ بِغَيْرِ حِسَابٍ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : محولہ بالاتفسیر ابوعبیدہ کی ہے جو انہوں نے کتاب المجاز میں بیان کی ہے۔ ان کی تفسیر کا حوالہ دینے سے امام موصوف کی غرض یہ سمجھانا ہے کہ اس آیت میں حسن سلوک جن لوگوں سے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان میں لونڈی بھی شامل ہے۔ آیت محولہ بالا کا پہلا کم وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ہے۔ اس حکم کی تعمیل سارے افراد معاشرہ پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۱۵) بَاب ١٦ : الْعَبْدُ إِذَا أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ سَيِّدَهُ غلام جب اپنے رب کی عبادت کو اچھی طرح بجالائے اور اپنے مالک کا بھی خیر خواہ ہو ( اس کا ثواب ) ٢٥٤٦: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۵۴۶ عبداللہ بن مسلمہ نے مجھے بتایا۔ انہوں مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ نے مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْعَبْدُ إِذَا صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام اگر اپنے مالک سے نَصَحَ سَيِّدَهُ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ كَانَ خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی عبادت اچھی طرح لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ۔ طرفه: ٢٥٥٠۔ بجالائے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔ ٢٥٤٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۲۵۴۷ : محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ صَالِحٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى صالح نے شعمی سے شعمی نے ابو بردہ سے، ابو بردہ