صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 581
صحيح البخاری جلدم ۵۸۱ ۴۹ - كتاب العتق باب :١٥ : قول النبي صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: العبيد الحوَالكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا ذکر کہ غلام تمہارے بھائی ہیں اس لئے تم ان کو اس کھانے سے کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو وَقَوْلُهُ تَعَالَى: وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ذکر اللہ کی عبادت تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ کرو اور کسی کو بھی اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور اِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبى وَالْيَتى والدین سے عمدہ سلوک کرو۔ایسا ہی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں اور مسکینوں، رشتہ دار پڑوسیوں سے وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ اور ان پڑوسیوں سے جو کہ رشتہ دار نہ ہوں اور پاس بیٹھنے والوں اور مسافروں اور جو ( تمہارے آپس کے السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللهَ معاہدات کی وجہ سے ) تمہارے ماتحت ہوں، ان لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًان سب سے نیک سلوک کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں (النساء: ۳۷) کو پسند نہیں کرتا جو متکبر اور شیخی کرنے والے ہوں۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: ذِي الْقُرْبَى ابو عبدالله (امام بخاری) نے کہا: اس آیت میں الْقَرِيْبُ۔وَالْجُنُبُ الْغَرِيْبُ الْجَارُ ذی القربیٰ سے مراد رشتہ دار اور جنب کے معنی اجنبی الْجُنُبُ يَعْنِي الصَّاحِبَ فِي السَّفَرِ } کے ہیں، الْجَارُ الْجُنُبِ یعنی وہ اجنبی پڑوسی جو سفر میں رفیق ہو کہ ہم ٢٥٤٥ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۲۵۴۵ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا وَاصِلَ الْأَحْدَبُ نے ہمیں بتایا۔واصل احدب نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے معرور بن سوید سے سنا۔کہتے تھے: قَالَ: سَمِعْتُ الْمَعْرُوْرَ بْنَ سُوَيْدٍ قَالَ: میں نے حضرت ابو ذر غفاری دینہ کو دیکھا۔وہ ایک نیا رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کپڑوں کا جوڑا پہنے تھے اور ان کا غلام بھی ویسا ہی نیا جوڑا وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ فَسَأَلْنَاهُ پہنے ہوئے تھا، تو ہم نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو یہ عبارت عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحہ ۱۰۷)