صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 572
صحيح البخاری جلدم ۵۷۲ ۴۹ - كتاب العتق بَابِ ۱۲ : عِتْقُ الْمُشْرِكِ مشرک کا کسی غلام کو آزاد کرنا ٢٥٣٨ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۲۵۳۸ عبيد بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنِي ابو اسامہ نے ہمیں بتایا کہ ہشام سے مروی ہے۔أَبِي أَنَّ حَكِيْمَ بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ( انہوں نے کہا: ) مجھے میرے باپ نے بتایا کہ حضرت أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ حكيم بن حزام رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں ایک سو عَلَى مِائَةِ بَعِيْرِ فَلَمَّا أَسْلَمَ حَمَلَ عَلَى گردنیں آزاد کی تھیں اور ایک سو اونٹ لوگوں کو سواری مِائَةِ بَعِيْرِ وَأَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ قَالَ: کے لئے دیئے۔جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے پھر سو اونٹ سواری کے لئے لوگوں کو دیئے اور ایک سو فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ غلام آزاد کئے۔کہتے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ علیہ وسلم سے پوچھا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو أَشْيَاءَ كُنْتُ أَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ علم ہی ہے جو کام میں جاہلیت میں کیا کرتا تھا۔میں كُنْتُ أَتَحَدَّثُ بِهَا يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا قَالَ: انہیں عبادت سمجھ کر کیا کرتا تھا یعنی نیکی سمجھ کر کیا کرتا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھا۔( کیا اُن پر بھی مجھے ثواب ملے گا؟) کہتے تھے: وَسَلَّمَ: أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کوان بھلائیوں کی وجہ سے ہی اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی ہے جو مِنْ خَيْرٍ۔اطرافه: ۱٤٣٦، ۲۲۲۰، ۱۹۹۲۔ریح: تم سے پہلے ہوئیں۔عِتْقُ الْمُشْرِكِ عِتَقَ الْمُشْرِک میں اضافت فاعل کی طرف بھی ہے اور مفعول کی طرف بھی۔مشرک کا آزاد کرنا اور مشرک کو آزاد کرانا دونوں کام نیک ہیں ؟ جن پر ثواب مرتب ہوتا ہے۔اَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ : یہ بنی بر حکمت فقرہ بھی جوامع الکلم میں سے ہے۔نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔اپنا نیک نتیجہ کسی نہ کسی وقت ضرور ظاہر کرتی ہے۔یہی روایت کتاب الزکوۃ باب ۲۴ روایت نمبر ۱۴۳۶ میں مذکور ہے۔