صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 564 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 564

صحيح البخاری جلدم ۵۶۴ ۴۹ - كتاب العتق اَلاِشْهَادُ فِي الْعِتُقِ : دوسرا مسئلہ بوقت عتق شہادت ہونے یا نہ ہونے کی ضرورت سے متعلق ہے۔اس بارے میں استدلال بھی حضرت ابو ہریرہ کے ہی الفاظ سے کیا گیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ آدھ میں مسلمان ہوئے اور انہوں نے سفر میں بڑی کوفت برداشت کی اور اس خوشی میں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کفر سے نجات دی ہے، کوفت بھول گئے اور جذبات شکر کے اظہار میں اپنا غلام آزاد کر دیا۔تکمیل شہادت ثانوی حیثیت رکھتی ہے، اصل دار و مدار نیت پر ہے۔الفاظ خواہ کچھ ہوں جیسا کہ مہلب کی رائے ہے۔(فتح الباری جزء صفحہ ۲۰۱) اسی طرح شعمی میتب بن رافع ، حماد بن ابی سلیمان اور حسن بصری رحمتہ اللہ علیہم کا بھی یہی فتویٰ ہے۔(عمدۃ القاری جز ء۱۳ صفحہ ۹۱) بَاب : أُمُّ الْوَلَدِ ( یہ باب ) ام ولد ( کے بارے میں ہے ) یعنی وہ لونڈی جس کے بطن سے بچہ پیدا ہو اور وہ ماں بن جائے قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تَلِدَ کرتے ہوئے کہا: اس گھڑی ( یعنی مسلمانوں کے تنزل کا زمانہ شروع ہونے ) کی علامتوں میں سے یہ الْأَمَةُ رَبَّهَا۔ہے کہ لونڈی اپنے مالک کو جنے گی۔٢٥٣٣ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۵۳۳ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔زہری سے روایت ہے۔انہوں نے عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْر أَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقاص رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ عقبہ بن ابی وقاص نے اپنے عَهِدَ إِلَى أَخِيْهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ بھائی سعد بن ابی وقاص کو وصیت کی کہ وہ زمعہ کی يَقْبِضَ إِلَيْهِ ابْنَ وَلِيْدَةِ زَمْعَةَ قَالَ عُتْبَةُ: لونڈی کے لڑکے کو اپنے پاس لے لے۔عتبہ نے کہا: إِنَّهُ ابْنِي فَلَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ وہ میرا بیٹا ہے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ أَخَذَ سَعْدٌ ابْنَ مکہ کے وقت وہاں آئے تو سعد نے زمعہ کی لونڈی وَلِيْدَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ کے لڑکے کو لے لیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ مَعَهُ بِعَبْدِ علیہ وسلم کے پاس لائے اور عبد بن زمعہ کو بھی اپنے ابْنِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُوْلَ اللهِ هَذَا ساتھ لائے۔سعد نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ میرے