صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 561
صحيح البخاری جلدم ۵۶۱ ۴۹ - كتاب العتق لَا عَتَاقَةَ إِلَّا لِوَجهِ اللهِ : یہ ایک حدیث کے الفاظ ہیں۔جو طبرانی نے نقل کی ہے۔(فتح الباری جز ۵۰ صفحہ ۱۹۸) شریعت اسلامیہ کی رو سے اعمال اسی وقت صالح کہلائیں گے جب رضائے الہی کے لئے صادر ہوں۔یہ وہ اصل الاصول ہے جس پر تمام احکام کی صحیح تعمیل کا دارومدار ہے۔اس باب کی دونوں حدیثیں خطاء ونسیان وغیرہ سے متعلقہ اختلاف کا حل شافی و کافی ہیں۔اسلام میں خطاء ونسیان پر کوئی مواخذہ نہیں۔ہر عمل میں ارادہ وقصد معتبر ہیں۔لَا نِيَّةَ لِلنَّاسِي وَالْمُخْطِئ بھولنے اور چوکنے والے کی کوئی نسبت نہیں۔اس سے اس قاعدہ کلیہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو فقہاء و ائمہ کے مسلمات میں سے ہے۔یہ قاعدہ مبنی ہے اس حدیث پر جو انہی معنوں میں ابن ماجہ نے نقل کی ہے۔إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَا وَالبَسْيَانَ۔(سنن ابن ماجه، كتاب الطلاق، باب طلاق المكره والناسی اللہ تعالیٰ نے میری امت کو بھول چوک سے درگز رفرمائی ہے۔امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، امام شافعی اور محمد ثین کے نزدیک شبہ وغصہ اور بھول چوک کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی اور اس پر غلام آزاد کرنے کا مسئلہ بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحه ۸۹) ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۹۹) اس تعلق میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ احناف حقوق اللہ اور حقوق العباد میں فرق کرتے ہیں کہ خطاء ونسیان میں حقوق اللہ تو قابل عفو ہیں مگر حقوق العباد نظر انداز نہیں کئے جاسکتے۔بھول کر کوئی کسی کو زخمی کر دے یا کسی کا مالی نقصان کر دے تو اس کی تلافی کی جائے گی۔اسی طرح طلاق و عتاق حقوق العباد میں سے ہیں جو حالت خطا میں واقع شدہ تسلیم کئے جائیں گے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۸۷، ۸۸) اسی وجہ سے دونوں مسئلے ایک ہی عنوان میں اکٹھے درج کر کے اس کا یہ جواب دیا ہے، قابل ویت امور پر طلاق و عتاق کا قیاس کرنا اس لئے قیاس مع الفارق ہے کہ ان کے لئے الگ احکام ہیں۔چنانچہ عتاق سے متعلق حدیث میں صراحت ہے کہ اس میں نیت ضروری ہے۔وَلَا عَتَاقَةَ إِلَّا لِوَجْهِ اللهِ، طبرانی نے یہ حدیث حضرت ابن عباس سے مرفوعا نقل کی ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں: لا طلاق إِلَّا لِعِدَّةٍ وَلَا عَتَاقَ إِلَّا لِوَجُهِ اللَّهِ۔یعنی عدت کے بغیر طلاق نہیں اور رضائے الہی کی نیت کے بغیر غلام کی آزدی نہیں۔اس لئے مذکورہ بالا نص صریح کے ہوتے ہوئے حنفی قیاس مذکورہ بالا ائمہ کے نزدیک درست نہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۹۸) بَابِ ٧ : إِذَا قَالَ لِعَبْدِهِ هُوَ لِلَّهِ وَنَوَى الْعِتْقَ وَالْإِشْهَادُ فِي الْعِتْقِ ( یہ باب اس بارہ میں ہے کہ ) جب کوئی (شخص) اپنے غلام سے یہ کہے کہ وہ اللہ کا ہے اور اُس نے آزاد کرنے کی نیت کی ہو ( تو وہ آزاد ہو جائے گا ) اور آزاد کرتے وقت گواہ ٹھہرانے کا بیان ٢٥٣٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۲۵۳۰ محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں بتایا۔انہوں ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ نے محمد بن بشر سے محمد بن بشر نے اسماعیل سے، اسماعیل إِسْمَاعِيْلَ عَنْ قَيْسِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نے تیس سے قیس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ