صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 550
صحيح البخاری جلدم ۵۵۰ ۴۹ - كتاب العتق تشریح فِي الْعِتُقِ وَفَضْلِهِ : عِشق کے لغوی معنی ہیں قوت۔کہتے ہیں: عَلِقَ الطَّائِرُ، قَوِيَ عَلَى جَنَاحَيْهِ یعنی پرندہ اپنے بازوؤں کی مدد سے پرواز کے قابل ہو گیا اور شرعی اصطلاح میں بھی یہی مفہوم ہے۔عَتِقَ مَمْلُوک کے غلام یا لونڈی کو قدرت حاصل ہوگئی کہ وہ آزادی سے اپنی مرضی کے مطابق تصرف کر سکے۔پابندی اٹھنے سے وہ قادر ہو گیا ہے کہ جو چاہے کا روبار کر لے، شادی کرے، عدالت میں چاہے شہادت دے یا نہ دے۔لفظ عتق سے باب افعلَ اعْتَقَ آتا ہے۔یعنی آزاد کر دیا اور اس کا مصدر اغتاق اور عناق ہے: آزاد کرنا۔(عمدۃ القاری جز ۳۰ ۱ صفحه ۷۶ ) فَتْ رَقَبَةٍ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ۔شرعی اصطلاح کی رُو سے عتق کے مفہوم میں قرب الہی کی غرض شامل ہے۔اس طرف اشارہ کرنے کی غرض سے تمہید میں قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَهَدَيْنَهُ النَّجْدَيْنِ O فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ O وَمَا أَدْرَكَ مَا الْعَقَبَةُ O فَكُ رَقَبَةٍ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةٍ يَّتِيْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ أَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوُا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد : اا ا (۱۸) اور ہم نے انسان کو دو گھاٹیوں (یعنی خیر و شر) کی طرف رہنمائی کی ہے مگر اس نے پھر بھی چوٹی سر نہ کی اور تجھے کیا معلوم کہ وہ چوٹی کونسی ہے۔گردن آزاد کرنا یا بھوک والے کو کھانا یتیم کو جو قریبی ہو یا مسکین محتاج کو جو خاک آلودہ پڑا ہو۔علاوہ ازیں پھر وہ ان لوگوں میں سے ہے جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی تلقین اور رحم کی تاکید کی ہے۔ان آیات کریمہ میں غلاموں کی آزادی، بے کسوں کی اعانت، مصیبت زدوں کی دستگیری شمار کرتے ہوئے ایمان باللہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ نیک اعمال کی قبولیت کا انحصار ایمان پر ہے اور اس تعلق میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت کے بعد حضرت علی بن حسین کا واقعہ نقل کیا ہے کہ ارشاد نبوی سنتے ہی ایک عزیز ترین قابل قدر غلام مطرف نامی آزاد کر دیا۔جس کی قیمت اُن کے والد کے چازاد بھائی حضرت عبداللہ بن جعفر نے انہیں دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار دینی چاہی تھی مگر انہوں نے یہ قیمت قبول نہیں کی تھی۔مطرف ان کے قیمتی اور پسندیدہ غلام تھے۔یہ واقعہ بھی مذکورہ بالا سند ہی سے مروی ہے اور امام احمد بن حنبل نے بھی یہ واقعہ اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔(فتح الباری جز ۵۰ صفحه ۱۸۳٬۱۸۲) اس تمہید میں امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے تین باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔اول : بعتق کا وسیع مفہوم جس میں غلامی سے آزادی اور بنی نوع انسان کو فقر و فاقہ سے رہائی دینا شامل ہے۔دوم: اس کی فضیلت جس کا نتیجہ بڑے ثواب کا موجب ہے۔سوم : آزاد کرنے والے کا جزو بدن آگ سے بچتا ہے۔کوئی عمل صالح تبھی کہلائے گا جب رضائے الہی کے لئے کیا جائے۔سورۃ البلد کی جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان کے سیاق کلام میں ضمنا یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ مشکل ترین کام جس میں پہاڑوں جیسی روکیں ہیں، اسلام کے ذریعے انجام پائے گا۔غلام آزاد ہوں گے، یتامیٰ کی سر پرستی اور تربیت کا انتظام اعلیٰ درجہ کا ہوگا مسکینوں کی بھوک کا علاج ہوگا اور رضائے الہی کے لئے اعمال صالحہ بجا لائے جائیں گے اور جب تک اسلام کی دعوت قبول نہ کی جائے گی ؛ دنیا بنی نوع انسان کے لئے جہنم بنی رہے گی۔یہ سیاق کلام ہے سورۃ البلد کا۔اس (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين مسند ابي هريرة، جزء ثانی صفحه ۴۲۲) کا