صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 546 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 546

صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۴۶ ۴۸- كتاب الرهن باب ۴ روایت نمبر ۴۸۱۳) اور کتاب النکاح ( باب (۲۷) میں بھی ان کا ایک حوالہ نقل کیا گیا ہے باوجود اس کے امام بخاری نے اس کی صحت قبول کی ہے۔ کیونکہ اس کی تائید سنن وغیرہ کتب احادیث سے ہوتی ہے۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۷۸) باب ٥ : الرَّهْنُ عِنْدَ الْيَهُوْدِ وَغَيْرِهِمْ یہود یا اور غیر مسلم لوگوں کے پاس رہن رکھنا ٢٥١٣ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ :۲۵۱۳: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، امش عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتِ نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ روایت کی ۔ وہ کہتی وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيَ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ تھیں : رسول اله صل اللہ علیہ سلم نے ایک یہودی سے اناج خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ رہن رکھی۔ اطرافه: ۲۰۶۸ ، ۲۰۹۶، ۲۲۰۰ ، ۲۲۵۱ ، ٢٢٥۲، ٢٣٨٦، ٢٥٠٩، ٢٩١٦، ٤٤٦٧۔ تشريح : الرَّهْنُ عِنْدَ الْيَهُودِ وَغَيْرِهِم : اس تعلق میں تشریح باب ۲ روایت نمبر ۲۵۰۹ بھی دیکھئے۔ اختلاف مذہب و ملت معاملات تمدنی میں روک نہیں ہے۔ بَاب ٦ : إِذَا اخْتَلَفَ الرَّاهِنُ وَالْمُرْتَهِنُ وَنَحْوُهُ فَالْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ اگر راہن اور مرتین اور اس قسم کے دوسرے لوگ آپس میں جھگڑا کریں تو مدعی کے ذمہ شہادت ہوگی اور مدعا علیہ کو قسم دی جائے گی ٢٥١٤: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى :۲۵۱۴ خلاد بن یحی نے ہم سے بیان کیا کہ نافع حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَكَتَبَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس إِلَيَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو ( دو عورتوں کے مقدمہ میں ) لکھا تو انہوں نے مجھے جوابا لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ہے کہ دعا علیست کلی ہے کہ قسم مدعا علیہ سے لی جائے گی۔ اطرافه: ٢٦٦٨، ٤٥٥٢