صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 546
صحيح البخاری جلدم ۵۴۶ ۴۸- كتاب الرهن ( باب ۲ روایت نمبر ۴۸۱۳) اور کتاب النکاح ( باب ۲۷) میں بھی ان کا ایک حوالہ نقل کیا گیا ہے باوجود اس کے امام بخاریؒ نے اس کی صحت قبول کی ہے۔کیونکہ اس کی تائید سفن وغیرہ کتب احادیث سے ہوتی ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۷۸) بَاب ٥ : الرَّهْنُ عِنْدَ الْيَهُوْدِ وَغَيْرِهِمْ یہود یا اور غیر مسلم لوگوں کے پاس رہن رکھنا ٢٥١٣: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ :۲۵۱۳ قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ عَنِ الْأَسْوَدِ جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتِ نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے اشْتَرَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ کہتی وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِي طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ۔تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے اناج خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ رہن رکھی۔* • اطرافه : ۲۰۶۸، ۲۰۹۶ ، ۲۲، ٢٢۰۱، ٢٢٥٢، ۲۳۸٦، ۲۰۰۹، ٢٩١٦، ٤٤٦٧۔تشريح الرَّهُنُ عِندَ الْيَهُودِ وَغَيْرِهِمُ : اس تعلق میں تشریح باب ۲ روایت نمبر ۲۵۰۹ بھی دیکھئے۔اختلاف مذہب وملت معاملات تمدنی میں روک نہیں ہے۔بَاب ٦ : إِذَا اخْتَلَفَ الرَّاهِنُ وَالْمُرْتَهِنُ وَنَحْوُهُ فَالْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِيْنُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ اگر راہن اور مرتہن اور اس قسم کے دوسرے لوگ آپس میں جھگڑا کریں تو مدعی کے ذمہ شہادت ہوگی اور مد عاعلیہ کو قسم دی جائے گی ٢٥١٤: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى :۲۵۱۴ خلاد بن سکی نے ہم سے بیان کیا کہ نافع حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَن ابْن أَبِي مُلَيْكَةَ بن عمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْن عَبَّاس فَكَتَبَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس إِلَيَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كو ( دوعورتوں کے مقدمہ میں ) لکھا تو انہوں نے مجھے جوابا لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا قَضَى أَنَّ الْيَمِيْنَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ۔اطرافة: ٢٦٦٨، ٤٥٥٢۔ہے کہ قسم مد عاعلیہ سے لی جائے گی۔